Bharat Express DD Free Dish

War on Gaza: غزہ میں فوری طور پر ختم ہو جنگ، اسرائیل کے اندر اٹھی آواز، سابق انٹیلی جنس افسران کا نتن یاہو کو مکتوب

جنوری میں اسرائیل اور حماس نے یرغمالیوں کے لیے تین مرحلوں میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ حالانکہ، مذاکرات کا دوسرا دور چھ ہفتے کا پہلا مرحلہ یکم مارچ کو ختم ہونے کے بعد تعطل کا شکار ہو گیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی کے تعطل کے درمیان 18 مارچ کو غزہ میں پھر سے فوجی آپریشن شروع کر دیا۔

موساد کے سابق انٹیلی جنس افسران نے غزہ میں جنگ ختم کرنے مطالبہ کیا۔

یروشلم: اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے 250 سے زائد سابق افسران نے حکومت سے غزہ پٹی میں فوری طور پر جنگ ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کان ٹی وی کی خبر کے مطابق سابق اہلکاروں نے حکومت کو ایک خط لکھ کر یہ مطالبہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق دستخط کرنے والوں میں موساد کے تین سابق سربراہان – ڈینی یاٹوم، افریم ہیلیوی اور تامیر پارڈو کے ساتھ ساتھ درجنوں دیگر سابق ارکان بھی شامل ہیں۔

موساد کے سابق ارکان نے کہا، ’’مسلسل لڑائی یرغمالیوں اور ہمارے فوجیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ اس درد کو ختم کرنے والے معاہدے تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔ ہم حکومت سے جرات مندانہ فیصلہ لینے اور ملک کی حفاظت کے لیے ذمہ داری سے کام کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔‘‘

خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، انہوں نے ان سینکڑوں فوجی اہلکاروں (چاہے وہ ریزرو میں ہوں یا ریٹائرڈ) کے تئیں حمایت کا اظہار کیا جنہوں نے اسی طرح کے ایک خط پر دستخط کیے تھے۔ خط میں جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کی واپسی کی اپیل کی گئی۔

جمعرات کے روز ہوائی عملے کے ارکان کے خط کی اشاعت کے بعد، اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر ٹومر بار نے دستخط کرنے والوں میں شامل ایکٹیو ریزروسٹوں کی سروس ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو نے برطرفی کے فیصلے کی حمایت کی اور ایسے خطوط کی مذمت کی۔ انہوں نے دستخط کرنے والوں کو ’ایک انتہا پسند حاشیہ کا گروہ‘ قرار دیا جو اسرائیلی معاشرے کو اندر سے توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس خط کی کاپیاں شائع کرنے والے متعدد ذرائع ابلاغ کے مطابق، اتوار کے روز تقریباً 200 اسرائیلی فوجی ڈاکٹروں نے ایک درخواست پر دستخط کیے جس میں جنگ کو روکنے اور مغویوں کو وطن واپس لانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس میں نے کہا گیا، ’’غزہ میں جاری لڑائی کا بنیادی مقصد سیاسی اور ذاتی مفادات کی تکمیل کے لیے ہے، اس کا کوئی حفاظتی مقصد نہیں ہے، اس سے فوجیوں اور یرغمالیوں کی زندگی خطرے میں پڑ رہی ہے۔‘‘

بتا دیں کہ حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حملہ کر کے 251 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔ اس وقت 59 اسرائیلی یرغمالی غزہ میں موجود ہیں، جن میں سے 24 کے بارے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔

جنوری میں اسرائیل اور حماس نے یرغمالیوں کے لیے تین مرحلوں میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ حالانکہ، مذاکرات کا دوسرا دور چھ ہفتے کا پہلا مرحلہ یکم مارچ کو ختم ہونے کے بعد تعطل کا شکار ہو گیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی کے تعطل کے درمیان 18 مارچ کو غزہ میں پھر سے فوجی آپریشن شروع کر دیا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read