Bharat Express DD Free Dish

Benjamin Netanyahu

دنیا بھر سے موصول ہونے والے یہ مبارکبادی پیغامات ایسے وقت میں آئے ہیں جب بھارت اپنی آزادی کی 80ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ مختلف ممالک کے رہنماؤں اور حکومتوں نے بھارت کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان پیغامات سے بھارت کے وسیع سفارتی روابط اور دوستی، تعاون، امن اور خوشحالی پر مبنی خطے کے قیام کے لیے اس کی شراکت داری کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔

وزیر اعظم مودی کی اس پوسٹ کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ری پوسٹ کیا۔ انہوں نے مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ’’میرے دوست ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی، آپ کا شکریہ۔‘‘ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ دونوں ممالک مل کر اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرتے رہیں گے۔

 ایک طرف مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ تو وہیں اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ہندوستان فون کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی کو کال کرکے دونوں ممالک کے رشتوں پر تبادلہ خیال کیا۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکمران اتحاد پارلیمنٹ کی تحلیل سے قبل اپنے چند متنازع بل منظور کرانے کے لیے قانونی اقدامات کر رہا ہے۔ اسرائیلی قوانین کے مطابق پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے بعد عام طور پر نئے قوانین اسی صورت میں منظور کیے جا سکتے ہیں جب حکومت اور اپوزیشن دونوں اس پر متفق ہوں۔ 

آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کے پہلے عوامی خطاب کے ساتھ شائع ہونے والی فہرست نے نئی سفارتی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ ایرانی حکومت کی باضابطہ توثیق سامنے نہیں آئی ہے۔ فہرست میں کیراسٹارمر، ایمانوئل میکرون، جورجیا میلونی، فریڈرک مرز، مارکو روبیو، پیٹ ہیگستھ، بریڈ کوپر، مائیک ہکابی، ایال ضمیر اور گیدون سار شامل ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال اور امریکی فوجی کارروائی کے بعد پیدا ہونے والے حالات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے موجودہ حالات پر اپنے اپنے مؤقف سے آگاہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کی صورتحال پر آئندہ بھی مشاورت جاری رکھی جائے گی۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفترکی جانب سے جاری بیان کے مطابق، دونوں لیڈران  نے مختلف معاملات پرگفتگوکی اوردونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطہ اورتعاون جاری رکھنے پراتفاق کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو خلیجی خطے میں امریکہ کی حالیہ سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ’’اصل باس کون ہے‘‘۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد دونوں لیڈروں کی ممکنہ وائٹ ہاؤس ملاقات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔

برازیلین صحافی کے دعوے کو پاکستانی صحافی نے مسترد کردیا۔ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ابتدائی معاہدے کو مفاہمت کی یادداشت (ایم اویو) سمجھا جاتا ہے۔

امریکہ-اسرائیل کی ایران سے کئی ماہ سے چل رہی جنگ کے کئی مقاصد تھے، لیکن سب سے اہم تھا کہ اسلامی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور تہران کو نیوکلیئر ہتھیار بنانے سے روکا جائے، لیکن اب اس سے متعلق بھی کئی اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔