Netanyahu greets PM Modi: نیتن یاہو نے 80ویں یوم آزادی پر وزیراعظم مودی کو دی مبارکباد، بھارت اور اسرائیل کی دوستی کو بتایا مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ
دنیا بھر سے موصول ہونے والے یہ مبارکبادی پیغامات ایسے وقت میں آئے ہیں جب بھارت اپنی آزادی کی 80ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ مختلف ممالک کے رہنماؤں اور حکومتوں نے بھارت کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان پیغامات سے بھارت کے وسیع سفارتی روابط اور دوستی، تعاون، امن اور خوشحالی پر مبنی خطے کے قیام کے لیے اس کی شراکت داری کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔
Netanyahu Thanks PM Modi: نیتن یاہو نے پی ایم مودی کو کہا شکریہ میرے دوست، ہم بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کو مزید مضبوط کرتے رہیں گے
وزیر اعظم مودی کی اس پوسٹ کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ری پوسٹ کیا۔ انہوں نے مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ’’میرے دوست ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی، آپ کا شکریہ۔‘‘ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ دونوں ممالک مل کر اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرتے رہیں گے۔
PM Modi receives Telephone call from Israeli PM: مشرق وسطیٰ کشیدگی کے درمیان بنجامن نیتن یاہو نے وزیر اعظم مودی کو کیا فون، جانئے کیا ہوئی دونوں لیڈران کے درمیان بات
ایک طرف مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ تو وہیں اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ہندوستان فون کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی کو کال کرکے دونوں ممالک کے رشتوں پر تبادلہ خیال کیا۔
Elections in Israel: اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہوں گے عام انتخابات، عوام کریں گے نیتن یاہو کی سیاسی قسمت کا فیصلہ، 1988 کے بعد پہلی بار مقررہ وقت پر ہوں گے انتخابات
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکمران اتحاد پارلیمنٹ کی تحلیل سے قبل اپنے چند متنازع بل منظور کرانے کے لیے قانونی اقدامات کر رہا ہے۔ اسرائیلی قوانین کے مطابق پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے بعد عام طور پر نئے قوانین اسی صورت میں منظور کیے جا سکتے ہیں جب حکومت اور اپوزیشن دونوں اس پر متفق ہوں۔
Iran’s Revenge List: ایرانی اخبار نے جاری کی ’’انتقامی فہرست‘‘، ڈونلڈ ٹرمپ، نیتن یاہو اور جورجیا میلونی سمیت 13 افراد کے نام شامل، حکومت نے اب تک نہیں کی توثیق
آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کے پہلے عوامی خطاب کے ساتھ شائع ہونے والی فہرست نے نئی سفارتی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ ایرانی حکومت کی باضابطہ توثیق سامنے نہیں آئی ہے۔ فہرست میں کیراسٹارمر، ایمانوئل میکرون، جورجیا میلونی، فریڈرک مرز، مارکو روبیو، پیٹ ہیگستھ، بریڈ کوپر، مائیک ہکابی، ایال ضمیر اور گیدون سار شامل ہیں۔
Middle East Tension: ایران نے پاکستان کے بعد سعودی عرب سے بھی کیا رابطہ، ٹرمپ اور نیتن یاہومیں بھی ٹیلیفونک بات چیت، ایران-امریکہ جنگ سے مشرق وسطیٰ میں حالات سنگین
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال اور امریکی فوجی کارروائی کے بعد پیدا ہونے والے حالات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے موجودہ حالات پر اپنے اپنے مؤقف سے آگاہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کی صورتحال پر آئندہ بھی مشاورت جاری رکھی جائے گی۔
Massive Explosions Several Iranian Cities: ایران کے کئی شہروں میں زبردست دھماکے، امریکہ نے نئے حملے کی تردید کی، ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو میں ٹیلی فون پر رابطہ
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفترکی جانب سے جاری بیان کے مطابق، دونوں لیڈران نے مختلف معاملات پرگفتگوکی اوردونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطہ اورتعاون جاری رکھنے پراتفاق کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو خلیجی خطے میں امریکہ کی حالیہ سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا۔
Trump Remarks on Netanyahu: ’نیتن یاہو اچھی طرح جانتے ہیں کہ اصل باس کون ہے…‘ بھرے مجمع میں اسرائیل پر ٹرمپ کا سخت بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ’’اصل باس کون ہے‘‘۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد دونوں لیڈروں کی ممکنہ وائٹ ہاؤس ملاقات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔
موساد نے رچی تھی پاکستان آرمی چیف عاصم منیر کے قتل کے سازش، برازیل کے صحافی کا اسرائیل پرحیران کرنے والا دعویٰ
برازیلین صحافی کے دعوے کو پاکستانی صحافی نے مسترد کردیا۔ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ابتدائی معاہدے کو مفاہمت کی یادداشت (ایم اویو) سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیل سے دوستی امریکہ کو پڑگئی بھاری، ایران کے ذریعہ دیئے گئے ان 5 زخموں کو کبھی نہیں بھول پائیں گے ڈونلڈ ٹرمپ
امریکہ-اسرائیل کی ایران سے کئی ماہ سے چل رہی جنگ کے کئی مقاصد تھے، لیکن سب سے اہم تھا کہ اسلامی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور تہران کو نیوکلیئر ہتھیار بنانے سے روکا جائے، لیکن اب اس سے متعلق بھی کئی اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔





