Bharat Express DD Free Dish

Benjamin Netanyahu

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ’’اصل باس کون ہے‘‘۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد دونوں لیڈروں کی ممکنہ وائٹ ہاؤس ملاقات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔

برازیلین صحافی کے دعوے کو پاکستانی صحافی نے مسترد کردیا۔ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ابتدائی معاہدے کو مفاہمت کی یادداشت (ایم اویو) سمجھا جاتا ہے۔

امریکہ-اسرائیل کی ایران سے کئی ماہ سے چل رہی جنگ کے کئی مقاصد تھے، لیکن سب سے اہم تھا کہ اسلامی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور تہران کو نیوکلیئر ہتھیار بنانے سے روکا جائے، لیکن اب اس سے متعلق بھی کئی اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔

لبنان کی سرکاری میڈیا نے جانکاری دی ہے کہ منگل کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم ازکم چارلوگوں کی موت ہوئی۔ حملہ اس وقت ہوا، جب امریکہ اورایران کے درمیان معاہدہ پراتفاق رائے ہوا اوراعلان کیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع بہت طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک شخص کو نشانہ بنانے کے لیے پوری عمارت کو تباہ کر دینا مناسب نہیں، کیونکہ ایسی عمارتوں میں بے گناہ افراد بھی رہتے ہیں جن کا حزب اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

 اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہوکی سفارتی شکست کودیکھتے ہوئے تل ابیب نے عجیب وغریب فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیل نے جنگ کے میدان سے باہرنہ نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یعنی لبنان پراسرائیل کا حملہ جاری رہے گا۔ اس سے امریکہ کی پریشانی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کو جیل جانے سے بچانے کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں بین الاقوامی عدالت کے خلاف محاذ کھولا۔ وہیں داخلی طورپربھی انہوں نے نیتن یاہو سے متعلق کیس کو کمزور کرنے میں اہم رول نبھایا۔ اب ٹرمپ خود نیتن یاہو کے خلاف غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کررہے ہیں۔

نیتن یاہو نے یاد دلایا کہ 1982 کی پہلی لبنان جنگ کے دوران بیوفورٹ قلعے پر قبضہ اسرائیلی معاشرے میں شدید اختلافات اور بحث کا باعث بنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان پر اپنے 18 سالہ قبضے (1982 تا 2000) کے دوران اس علاقے پر کنٹرول برقرار رکھا، لیکن سال 2000 میں اسرائیلی فوج وہاں سے واپس چلی گئی تھی۔

جین نوئل بارو نے کہا کہ فرانس لبنان میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں اور لبنانی علاقوں میں اس کی مسلسل پیش قدمی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق خطے میں کشیدگی میں اضافہ پورے مشرق وسطیٰ کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

نئے وزیر اعظم کے حالیہ بیان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ہنگری کی نئی حکومت بین الاقوامی قوانین کی پابندی پر زور دے رہی ہے، چاہے اس کے نتیجے میں عالمی سطح کے طاقتورلیڈروں کے خلاف کارروائی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔