Bharat Express DD Free Dish

Benjamin Netanyahu

آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کے پہلے عوامی خطاب کے ساتھ شائع ہونے والی فہرست نے نئی سفارتی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ ایرانی حکومت کی باضابطہ توثیق سامنے نہیں آئی ہے۔ فہرست میں کیراسٹارمر، ایمانوئل میکرون، جورجیا میلونی، فریڈرک مرز، مارکو روبیو، پیٹ ہیگستھ، بریڈ کوپر، مائیک ہکابی، ایال ضمیر اور گیدون سار شامل ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال اور امریکی فوجی کارروائی کے بعد پیدا ہونے والے حالات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے موجودہ حالات پر اپنے اپنے مؤقف سے آگاہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کی صورتحال پر آئندہ بھی مشاورت جاری رکھی جائے گی۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفترکی جانب سے جاری بیان کے مطابق، دونوں لیڈران  نے مختلف معاملات پرگفتگوکی اوردونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطہ اورتعاون جاری رکھنے پراتفاق کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو خلیجی خطے میں امریکہ کی حالیہ سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ’’اصل باس کون ہے‘‘۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد دونوں لیڈروں کی ممکنہ وائٹ ہاؤس ملاقات پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔

برازیلین صحافی کے دعوے کو پاکستانی صحافی نے مسترد کردیا۔ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس ابتدائی معاہدے کو مفاہمت کی یادداشت (ایم اویو) سمجھا جاتا ہے۔

امریکہ-اسرائیل کی ایران سے کئی ماہ سے چل رہی جنگ کے کئی مقاصد تھے، لیکن سب سے اہم تھا کہ اسلامی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور تہران کو نیوکلیئر ہتھیار بنانے سے روکا جائے، لیکن اب اس سے متعلق بھی کئی اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔

لبنان کی سرکاری میڈیا نے جانکاری دی ہے کہ منگل کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم ازکم چارلوگوں کی موت ہوئی۔ حملہ اس وقت ہوا، جب امریکہ اورایران کے درمیان معاہدہ پراتفاق رائے ہوا اوراعلان کیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع بہت طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک شخص کو نشانہ بنانے کے لیے پوری عمارت کو تباہ کر دینا مناسب نہیں، کیونکہ ایسی عمارتوں میں بے گناہ افراد بھی رہتے ہیں جن کا حزب اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

 اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہوکی سفارتی شکست کودیکھتے ہوئے تل ابیب نے عجیب وغریب فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیل نے جنگ کے میدان سے باہرنہ نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یعنی لبنان پراسرائیل کا حملہ جاری رہے گا۔ اس سے امریکہ کی پریشانی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کو جیل جانے سے بچانے کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں بین الاقوامی عدالت کے خلاف محاذ کھولا۔ وہیں داخلی طورپربھی انہوں نے نیتن یاہو سے متعلق کیس کو کمزور کرنے میں اہم رول نبھایا۔ اب ٹرمپ خود نیتن یاہو کے خلاف غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کررہے ہیں۔