Bharat Express DD Free Dish

Benjamin Netanyahu

لبنان کی سرکاری میڈیا نے جانکاری دی ہے کہ منگل کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم ازکم چارلوگوں کی موت ہوئی۔ حملہ اس وقت ہوا، جب امریکہ اورایران کے درمیان معاہدہ پراتفاق رائے ہوا اوراعلان کیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع بہت طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک شخص کو نشانہ بنانے کے لیے پوری عمارت کو تباہ کر دینا مناسب نہیں، کیونکہ ایسی عمارتوں میں بے گناہ افراد بھی رہتے ہیں جن کا حزب اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

 اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہوکی سفارتی شکست کودیکھتے ہوئے تل ابیب نے عجیب وغریب فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیل نے جنگ کے میدان سے باہرنہ نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یعنی لبنان پراسرائیل کا حملہ جاری رہے گا۔ اس سے امریکہ کی پریشانی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کو جیل جانے سے بچانے کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں بین الاقوامی عدالت کے خلاف محاذ کھولا۔ وہیں داخلی طورپربھی انہوں نے نیتن یاہو سے متعلق کیس کو کمزور کرنے میں اہم رول نبھایا۔ اب ٹرمپ خود نیتن یاہو کے خلاف غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کررہے ہیں۔

نیتن یاہو نے یاد دلایا کہ 1982 کی پہلی لبنان جنگ کے دوران بیوفورٹ قلعے پر قبضہ اسرائیلی معاشرے میں شدید اختلافات اور بحث کا باعث بنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان پر اپنے 18 سالہ قبضے (1982 تا 2000) کے دوران اس علاقے پر کنٹرول برقرار رکھا، لیکن سال 2000 میں اسرائیلی فوج وہاں سے واپس چلی گئی تھی۔

جین نوئل بارو نے کہا کہ فرانس لبنان میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں اور لبنانی علاقوں میں اس کی مسلسل پیش قدمی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق خطے میں کشیدگی میں اضافہ پورے مشرق وسطیٰ کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

نئے وزیر اعظم کے حالیہ بیان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ہنگری کی نئی حکومت بین الاقوامی قوانین کی پابندی پر زور دے رہی ہے، چاہے اس کے نتیجے میں عالمی سطح کے طاقتورلیڈروں کے خلاف کارروائی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔

وزیراعظم نیتن یاہونے میجرجنرل رومن گوف مین کوموساد کا اگلا سربراہ مقررکردیا ہے۔ بنجامن نیتن یاہواورآرمی چیف نے گوف مین کی تعریف کی ہے، جبکہ موجودہ چیف ڈیوڈ بارنیا سمیت دیگرنے ان کی تقرری پر اعتراض کیا ہے اور سوالات اٹھائے ہیں۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی محدود نوعیت کی ہے اور اس کا اطلاق لبنان میں سرگرم تنظیم حزب اللہ پر نہیں ہوتا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق حزب اللہ ایک علیحدہ اور سنگین خطرہ ہے، جو اسرائیل کی شمالی سرحد پر مسلسل دباؤ ڈالے ہوئے ہے۔

پاکستان کے وزیردفاع کے ذریعہ اسرائیل کو’کینسر‘ قرار دینے کے بیان پر اسرائیل نے شدید اعتراض کیا ہے اوراس کے خاتمہ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس بیان نے ایران اورامریکہ کے درمیان ثالث کے طور پرپاکستان کے کردارپرسوالات اٹھائے ہیں کیونکہ اسرائیل اسے یہود مخالف اور اپنے وجود پرحملہ قراردے رہا ہے۔