Bharat Express DD Free Dish

Benjamin Netanyahu

نیتن یاہو نے یاد دلایا کہ 1982 کی پہلی لبنان جنگ کے دوران بیوفورٹ قلعے پر قبضہ اسرائیلی معاشرے میں شدید اختلافات اور بحث کا باعث بنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان پر اپنے 18 سالہ قبضے (1982 تا 2000) کے دوران اس علاقے پر کنٹرول برقرار رکھا، لیکن سال 2000 میں اسرائیلی فوج وہاں سے واپس چلی گئی تھی۔

جین نوئل بارو نے کہا کہ فرانس لبنان میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں اور لبنانی علاقوں میں اس کی مسلسل پیش قدمی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق خطے میں کشیدگی میں اضافہ پورے مشرق وسطیٰ کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

نئے وزیر اعظم کے حالیہ بیان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ہنگری کی نئی حکومت بین الاقوامی قوانین کی پابندی پر زور دے رہی ہے، چاہے اس کے نتیجے میں عالمی سطح کے طاقتورلیڈروں کے خلاف کارروائی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔

وزیراعظم نیتن یاہونے میجرجنرل رومن گوف مین کوموساد کا اگلا سربراہ مقررکردیا ہے۔ بنجامن نیتن یاہواورآرمی چیف نے گوف مین کی تعریف کی ہے، جبکہ موجودہ چیف ڈیوڈ بارنیا سمیت دیگرنے ان کی تقرری پر اعتراض کیا ہے اور سوالات اٹھائے ہیں۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی محدود نوعیت کی ہے اور اس کا اطلاق لبنان میں سرگرم تنظیم حزب اللہ پر نہیں ہوتا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق حزب اللہ ایک علیحدہ اور سنگین خطرہ ہے، جو اسرائیل کی شمالی سرحد پر مسلسل دباؤ ڈالے ہوئے ہے۔

پاکستان کے وزیردفاع کے ذریعہ اسرائیل کو’کینسر‘ قرار دینے کے بیان پر اسرائیل نے شدید اعتراض کیا ہے اوراس کے خاتمہ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس بیان نے ایران اورامریکہ کے درمیان ثالث کے طور پرپاکستان کے کردارپرسوالات اٹھائے ہیں کیونکہ اسرائیل اسے یہود مخالف اور اپنے وجود پرحملہ قراردے رہا ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے واضح طور پر کہا ہے کہ لبنان کسی بھی جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

امریکہ اورایران کے درمیان 14 دنوں کی جنگ بندی پربھلے ہی رضا مندی بن گئی ہو، لیکن مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ابھی بھی برقرارہے۔ اسی درمیان اسرائیل نے حزب اللہ سربراہ نعیم قاسم کے بھتیجے کو ہلاک کرنے کا بڑا دعویٰ کیا ہے۔

ایران میں بغاوت کرنے کی امریکہ-اسرائیل کا منصوبہ فی الحال ناکام رہا ہے۔ موساد کی حکمت عملی کے تحت حملوں کے بعد عوام کو حکومت کے خلاف کھڑا کرنا تھا، لیکن تین ہفتوں بعد بھی کوئی بڑا آندولن نہیں ہوا۔ آئیے اس پلان کے ناکام ہونے کی وجہ جانتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک مختصر انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی مہم اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ تقریباً پانچ منٹ پر مشتمل اس گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اب نشانہ بنانے کے لیے بہت کم فوجی اہداف باقی ہیں، اس لیے جنگ زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکتی۔