افغانستان کے ساتھ جاری تنازع میں کیا پاکستان کا ساتھ دے گا سعودی عرب؟
سعودی عرب نے اسرائیل کے انسانی امدادی سامان کے غزہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دینے کے بعد جمعہ کے روز مطالبہ کیا ہے کہ جنگ زدہ غزہ کی پٹی میں امداد کی مسلسل روانی کویقینی بنانے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے۔ سعودی وزیرِخارجہ فیصل بن فرحان نے جنوبی ترکیہ میں اپنے علاقائی ہم منصبوں کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد کہا، “میں غزہ کی پٹی میں امداد کی مسلسل اورمناسب روانی کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ کے استعمال کا مطالبہ کرتا ہوں۔”
اسرائیلی پائلٹوں کا جنگ بندی کا مطالبہ
اسرائیلی پائلٹوں نے بھی غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ حالانکہ اسرائیلی فوج نے انتباہ کیا ہے کہ ان تمام ریزروپائلٹوں کوفوج کی ملازمت سے برطرف کردیا جائے گا جوغزہ میں جنگ روک دینے اوراسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے عوامی سطح پر مہم چلا رہے ہیں یا مطالبہ کررہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی یہ دھمکی جمعرات کے روز سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی حکومت کو اس سے پہلے ہی عوامی سطح پر احتجاج اورسخت تنقید کا سامنا ہے۔ ان پائلٹوں نے مزید سبکی اور شرمندگی کی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ اسرائیلی عوام کے علاوہ کئی سابق حکام نے بھی اسرائیلی فوج کے 18 مارچ سے غزہ پر دوبارہ جنگ مسلط کرنے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے نیتن یاہو حکومت کی سیاست کی ضرورت قرار دیا ہے۔ اب اسرائیلی فضائیہ کے ریزرو پائلٹ بھی اس عوامی آواز اور مطالبے کے ساتھ ہم آواز ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ نے دی پائلٹوں کو دھمکی
تاہم اسرائیلی فوج کے سربراہ اورکمانڈروں کے ایما پران ریزروپائلٹوں کودھمکی دی گئی ہے کہ اس طرح کے مطالبے ‘جنگ بند کی جائے اورغزہ میں قید اسرائیلیوں کی رہائی کواولین ترجیح بنایا جائے’ کی حمایت میں اجتماعی خط پردستخط کرنے والے ریزرو پائلٹوں کوفضائیہ سے نکال دیا جائے گا۔ اسرائیلی فوج کے اعلی ترین حکام نے سخت ردعمل کا اظہاربین الاقوامی خبررساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے سوال پردیئے گئے جواب میں کیا ہے۔ فوجی حکام سے پوچھا گیا تھا کہ ایک ہزارکے قریب حاضرسروس اورریٹائرڈ پائلٹوں نے مذکورہ بالا مطالبات پرمبنی خط پردستخط کئے ہیں کہ اسرائیل جنگ روک کراپنے قیدی چھڑانے کی کوشش کرے۔ اہم بات ہے کہ عین حالت جنگ میں ہونے کے باوجود اسرائیلی پائلٹوں نے جنگ سے بیزاری کا اظہاراپنے اس خط کے ذریعہ اخبارات میں بھی کیا ہے۔ یہ خط اخبارات کے مکمل صفحے پر مشتمل ہے، جس کے مندرجات اسرائیلی عوام کے ساتھ ساتھ دنیا بھرمیں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئے ہیں۔
نیتن یاہو نے غزہ کی جنگ پرمعترض ہوا بازوں کو “انتشار پسند گروہ” قراردیا
اسرائیلی فوج کے سیکڑوں ہوا بازوں کی جانب سے ایک خط پردستخط کئے گئے، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ غزہ میں قیدیوں کورہا کیا جائے خواہ اس کے لیے جنگ روکنا پڑے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے مذکورہ موقف پرتنقید کرتے ہوئے مذکورہ ہوا بازوں کو “ایک چھوٹا سا انتشار پسند گروہ” قراردیا۔ آج جمعہ کے روزایک بیان میں نیتن یاہوکا کہنا تھا کہ “وہی پیغامات ایک بارپھر، کبھی ہوا بازوں کی طرف سے، کبھی بحریہ کے سینئر جنگجوؤں کی طرف سے اور کبھی دیگر کی طرف سے … تاہم عوام اب ان کے جھوٹے پروپیگنڈے کا یقین کرنے والے نہیں رہے جسے میڈیا بار بار پیش کرتا ہے”۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے اس خط کے لکھنے والوں کو ضرر رساں پودوں کا چھوٹا سا گروہ قراردیا، جن کو بیرون سے فنڈنگ حاصل کرنے والی غیر سرکاری تنظیمیں چلا رہی ہیں۔ نیتن یاہو کے مطابق ان سب کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے دائیں بازوکی حکومت کا سقوط۔ ایک اسرائیلی عسکری ذمے دار نے گذشتہ روز انکشاف کیا تھا کہ فوج ان ہوا بازوں کو نکال دے گی بالخصوص جب کہ انھوں نے اعلانیہ طورپرعرضی پردستخط کئے۔ ذمے دار کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس پیغام پردستخط کرنے والا کوئی بھی فعال ریزروعنصرفوج میں اپنی خدمات جاری نہیں رکھ سکے گا۔ اس خط پرتقریبا ایک ہزار ریٹائرڈ یا ریزرو ہوا بازوں نے دستخط کئے اوراسے مقامی میڈیا نے نشر کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



