Bharat Express DD Free Dish

Israel-Gaza Conflict

ہندوستان کے ایک انتہائی قابل احترام سابق جج جسٹس ایس مرلی دھر، اس وقت بین الاقوامی سطح پر توجہ کا موضوع ہیں۔ انسانی حقوق اور انصاف کے لئے اپنے غیرجانبدارانہ نقطہ نظرکے لئے مشہورجسٹس مرلی دھرکو اب اقوام متحدہ (یو این) نے ایک اور اہم ذمہ داری سونپی ہے۔

سعودی عرب، ترکیہ اورپاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی اورانتظامی نظام قائم کرنا ہے۔ حالانکہ اسرائیل نے اس پرناراضگی کا اظہارکیا ہے۔

امریکی حکام نے دوسرے مرحلے کو پہلے مرحلے کی کامیابیوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔ وٹکوف کے مطابق، پہلے مرحلے میں زمینی سطح پر اہم انسانی اور سکیورٹی سے متعلق نتائج سامنے آئے۔

ترکی نے نسل کشی کے الزام میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سمیت 37 اسرائیلی اہلکاروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔ ترکی نے غزہ میں منظم نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام لگایا ہے۔ اسرائیل نے اسے"پبلسٹی اسٹنٹ" قراردیتے ہوئے مسترد کردیا ہے جبکہ حماس نے ترکی کے اس قدم کا خیر مقدم کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت جنگ بندی اب حماس کے فیصلے پر منحصر ہے۔ دریں اثنا، اسرائیل نے انخلاء کی لائن پر اتفاق کیا ہے۔ دوسری جانب، ٹرمپ نے حماس سے کہا ہے کہ وہ فوری طورپر اس تجویزکو قبول کرے۔ اس نے حماس کوشام 6 بجے تک کا وقت دیا ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ کسی قسم کی تاخیربرداشت نہیں کی جائے گی۔

مسجد الاقصیٰ کیمپس کے اندراسرائیل کے ذریعہ غیرقانونی طور پر کھدائی کرنے پر فلسطین اتھارٹی سمیت بین الاقوامی اداروں نے مذمت کی ہے۔ اسلامی، تعلیمی اور ثقافتی تنظیم نے مسجد الاقصیٰ احاطے کے اندر کھدائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ 1954 کے ہیگ کنونشن اور چوتھے جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے۔

غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارتِ صحت نے پیر کے روز اعلان کیا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قحط اور غذائی قلت کے باعث مزید 9 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، جن میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔ وزارت نے اپنے بیان مزید بتایا کہ "یوں قحط کے شکار جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 348 ہوگئی ہے، جن میں 127 بچے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ غزہ شہرپر قابو پائے، جہاں تقریباً 10 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ بدھ کو اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ شہر کے باشندگان کومنتقل کرنے کی تیاری جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انسانی امداد کے مراکز قائم کئے جارہے ہیں اورخیمے فراہم کیے جا چکے ہیں، لیکن امدادی تنظیمیں جنوب میں ساحلی علاقے کی تباہ کن صورت حال کے بارے میں بار بار خبردارکرتی رہی ہیں۔ غزہ کی جنگ میں 60 ہزارسے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔

وزیراعظم میلونی کا غزہ میں صحافیوں کی تازہ ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار، عالمی برادری سے جنگ بندی، قیدیوں کی رہائی اور انسانی امداد کی فوری فراہمی پر زور

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ طے کریں گے کہ غزہ کا مستقبل کیا ہوگا۔ امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ ٹرمپ وہائٹ ہاؤس میں غزہ سے متعلق ایک بڑی میٹنگ کی صدارت کریں گے۔