Bharat Express DD Free Dish

Israel-Gaza Conflict

ذرائع نے انکشاف کیا کہ خصوصی فورس خواتین کا لباس پہن کر اور پناہ گزینوں کے بیگ اٹھائے ہوئے داخل ہوئی۔ اس نے القسام بریگیڈز کے ایک ذمے دار کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جس کے بارے میں اطلاع ملی تھی کہ وہ ممکنہ طور پر کچھ قیدیوں کے ہمراہ سرنگوں سے باہر نکلا ہے۔ بعد ازاں یہ واضح ہوا کہ وہاں کوئی قیدی موجود نہیں، تو فورس کارروائی کے بعد واپس چلی گئی، جب کہ اس کے نتائج پوری طرح واضح نہیں ہو سکے۔

اسپین کے وزیراعظم پیڈروسانچزنےغزہ پرانسانی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد پیش کرنے کے اپنے ملک کے ارادے کا اعلان کیا اورکہا کہ غزہ میں تشدد کے چکرکوروکنا ہوگا۔ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ اورناقابل قبول ہے اوریہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

غزہ میں اس وقت شدید تباہ کن جنگ جاری ہے اور دو ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری اسرائیلی محاصرے کے باعث خوراک، صاف پانی، ایندھن اور ادویات جیسی بنیادی اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

حماس نے امریکی-اسرائیلی قیدی ایڈن الیکزینڈر کی رہائی کا اعلان کیا ہے، جوغزہ میں جنگ بندی میں ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔ توقع ہے کہ الیکزینڈر کی رہائی سے غزہ میں کشیدگی میں کمی آئے گی اورایک جامع سیاسی تصفیہ ہوگا۔ تاہم ریلیزکرنے کی تاریخ ابھی واضح نہیں ہے۔

تازہ ترین ڈرون حملہ وسطی غزہ میں بریج پناہ گزین کیمپ پر کیا گیا۔ فلسطین انفارمیشن سینٹر کے مطابق، ایک نوجوان جس کی شناخت اکرم الحواجری کے نام سے ہوئی ہے، بریج کیمپ کے داخلی راستے کے شمال میں واقع الفزب مارکیٹ کے قریب ڈرون حملے میں شہید ہوا۔ اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی توپ خانے نے وسطی غزہ میں بریج کیمپ کے جنوب میں واقع قریب واقع مغازی پناہ گزین کیمپ پر گولہ باری کی ہے۔

غزہ کے شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال نے ٹیلی گرام پربتایا کہ "ہمارے عملے نے جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس کے مشرق میں بنی سہیلہ کے علاقے میں براکہ خاندان کے گھر اور ہمسایہ مکانات سے 10 شہداء اوربڑی تعداد میں زخمی برآمد کئے، جنہیں اسرائیلی قابض فوج نے نشانہ بنایا۔

اسرائیلی طیاروں نے دیر البلاح کے علاقے میں شہریوں کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ابو مہدی خاندان کے چھ افراد بیک وقت مارے گئے۔

غزہ جنگ کی وجہ سے اسرائیل میں یرغمالیوں کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ موساد کے سابق اہلکاروں نے ایک خط جاری کیا ہے، جس میں حکومت سے جنگ بندی کا اعلان کرنے اورمغویوں کو بحفاظت رہا کرنے کا کہا گیا ہے۔

سعودی وزیرِخارجہ فیصل بن فرحان نے جنوبی ترکیہ میں اپنے علاقائی ہم منصبوں کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد کہا، میں غزہ کی پٹی میں امداد کی مسلسل اورمناسب روانی کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ کے استعمال کا مطالبہ کرتا ہوں۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) کے کمشنر جنرل نے اسرائیلی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں روزانہ کم از کم 100 بچوں کی ہلاکت اورزخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) نے بچوں کے قتل عام کو ہولناک قراردیا ہے۔