Bharat Express DD Free Dish

Israel-Gaza Conflict

صحافیوں کے تحفظ کے لئے کمیٹی یا کمیٹی ٹوپروٹیکٹ جرنلسٹ (سی پی جے) کے مطابق، اسرائیل اورحماس کا تنازعہ میڈیا کارکنوں کے لئے خونریز ترین تنازعات میں سے ایک رہا ہے۔ غزہ میں تقریباً 22 ماہ سے جاری اس تنازعہ میں کل 192 صحافی مارے جا چکے ہیں۔

اسرائیل کے معاملے میں امریکہ اوریوروپ کا دباؤ ہمیشہ اہم مانا جاتا ہے۔ مغربی ممالک کھلے طور پراس کی حمایت کرتے ہیں اور اقوام متحدہ جیسے اسٹیج پراس کا موقف مضبوط کرتے ہیں۔ اگرکوئی مسلم ملک اسرائیل کے خلاف سیدھی کارروائی کرتا ہے تواسے مغربی ممالک سے سخت پابندی اوراقتصادی نقصان کا خوف ستانے لگتا ہے۔

 ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے نیتن یاہوکے گریٹراسرائیل بنانے والے بیان پرسخت ردعمل ظاہرکیا ہے۔ انہوں نے ایک سوشل میڈیا پر اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے بنجامن نیتن یاہوکو21ویں صدی کا ہٹلراورپاگل کتا قراردیا ہے۔

بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی جانب سے اس جنگ کے دائرہ وسیع کرنے کے خطرات پر انتباہات میں اضافہ ہوا ہے، جو 2023 سے جاری ہے۔ اس دوران پورے غزہ میں غذائی قلت کے علاوہ طب، خوراک اور پانی کے وسائل کی شدید کمی اور اسپتالوں کی بگڑتی حالت بھی واضح طور پر عیاں کی جا رہی ہے۔

صدرڈونالڈ ٹرمپ نے ان خبروں پر بھی تبصرہ کیا جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی، اسرائیلی اور قطری حکام کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے ایک خفیہ ملاقات ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل اہمیت معاہدے کے حصول کی ہے، اور وہ معاہدہ قریب ہے۔

امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ میں تقریباً ڈھائی سال سے جاری جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے۔ غزہ جنگ بندی کی یہ تجویز امریکہ کی قیادت میں قطراورمصر کے تعاون سے تیارکی گئی تھی، جسے اسرائیل نے قبول کرلیا ہے۔ دوسری جانب، ایلن مسک نے ٹوئٹ کرکے ٹرمپ کے دعوے پرسوال اٹھایا ہے۔

اسرائیل کے ذریعہ تازہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتہ جنگ بندی سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔ 27 جون کو ٹرمپ نے میڈیا سے کہا تھا کہ ’’ہم غزہ پر کام کر رہے ہیں۔‘‘

تفصیلات کے مطابق، غزہ میں دشمنانہ کارروائیاں دو ہفتوں کے اندرختم کردی جائیں گی اورجنگ کے خاتمے کی شرائط میں چارعرب ممالک جن میں مصراورمتحدہ عرب امارات شامل ہیں کوغزہ کا انتظام سنبھالنے کی ذمہ داری دی جائے گی۔

فلسطینی مندوب کی تقریر کے دوران اقوام متحدہ کے ہال میں خاموشی چھا گئی۔ فلسطینی مندوب کی تکلیف اوردرد سے بھری ہوئی تقریرکا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے، جس نے دنیا بھر کے عوام اور کئی عالمی رہنماؤں کو جھنجھوڑ کررکھ دیا ہے۔

شہری دفاع کے میڈیکل سپلائی کے ڈائریکٹرمحمد المغیرنے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں سے 23 افراد مرکزی غزہ کے البریج پناہ گزین کیمپ کے مشرق میں القرییناوی خاندان کے گھرپراسرائیلی وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنے۔ غزہ کی وزارت صحت نے بھی رفح میں امریکی امدادی مراکز کے قریب اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 48 گھنٹوں کے دوران 9 افراد کے جاں بحق ہونے اور60 سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کا بتایا۔