Bharat Express DD Free Dish

Israel-Gaza Conflict

اسرائیل مسلسل غزہ میں اپنے فوجی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں اس نے غزہ کے کچھ حصوں کے لیے جامع انخلاء کے احکامات جاری کیے ہیں۔ بنجامن نیتن یاہو نے واضح طورپرکہا ہے کہ ان علاقوں کو جلد ازجلد خالی کردیا جائے۔ دوسری جانب، اسرائیل کے انخلاء کے حکم کے حوالے سے اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد سے تقریباً 280,000 فلسطینی جبری طور پر بے گھرہوچکے ہیں۔

اسرائیل نے غزہ کے حوالے سے مصر کی نئی تجویز پر جواب دینے کے لیے مہلت طلب کی ہے۔ العربیہ نیوز کے مطابق اسرائیل غزہ کی پٹی سے حماس کے ہتھیار لیے جانے کے واسطے ٹائم ٹیبل وضع کرنا چاہتا ہے۔

منگل کے روز سے شروع کیے گئے تازہ اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 634 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

غزہ پٹی پر اسرائیلی فوج کا حملہ چوتھے روز بھی جاری ہے جب اس کی زمینی افواج نے شمالی اور جنوبی غزہ پر حملہ کیا اور اسرائیلی وزیر دفاع نے اس کے ساحلی علاقے پر قبضے کی دھمکی دی۔

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کے روز کہا کہ گزشتہ دو دنوں کے فضائی حملے ’صرف شروعات‘ ہیں۔ اس کے بعد مزید سنگین حملے ہوں گے، اور تم اس کی پوری قیمت چکاؤ گے۔

اسرائیلی فوج نے غزہ پر جان لیوا حملوں کے بعد غزہ کے متعدد علاقوں کے رہائشیوں کو ’’فوری طور پر علاقہ خالی کرنے‘‘ کی دھمکی ہے۔ اسرائیل کے تازہ حملوں نے صرف کچھ ہی گھنٹوں کے اندر کم از کم 404 فلسطینیوں کی جان لے لی ہے اور 562 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جنگ بندی کی بات چیت کے دوران اسرائیل نے منگل کو غزہ پر اپنے حملے دوبارہ شروع کر دیے، جس نتیجے میں کم از کم 330 افراد ہلاک ہو گئے۔مقامی وقت کے مطابق صبح 2 بجے شروع کیا گیا یہ حملہ 19 جنوری کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے فلسطینی سرزمین پر ہونے والا سب سے مہلک حملہ ہے۔

اسرائیل دوسرے مرحلے کی جنگ بندی کے لئے مذاکرات کے بغیر ہی باقی تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی چاہتا ہے۔ حتی کہ اس کے لئے مذاکرات سے بھی گریزاں ہے۔ جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے سلسلے میں پیش رفت کے بغیرقیدیوں کورہا نہیں کیا جاسکتا۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں اسرائیل پرانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں جنسی اورصنفی تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، کئی واقعات میں متاثرین کوزبردستی سرعام برہنہ کیا گیا، جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اورزیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

حماس کے ترجمان قاسم نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر امریکی صدر ٹرمپ کا یہ بیان غزہ پٹی کے لوگوں کو بےگھر کرنے کے اپنے خیالات سے پیچھے ہٹنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو ان کا استقبال ہے۔‘‘ قاسم نے مزید کہا کہ ’’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیلی قبضے کو جنگ بندی کے معاہدوں کی تمام شرائط پر عمل درآمد کرنے کا پابند بنا کر اس بیان کو مزید تقویت دی جائے۔‘‘