کشمیر کی خوبصورت وادی پہلگام میں انسانیت کو شرمسار کردینے والی دہشت گردانہ حرکت نے پورے ملک اور عالمی برادری کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ حملہ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں واقع پہلگام کے بائیسران علاقے میں پیش آیاتھا، جہاں دہشت گردوں نے سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس حملے میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر سیاح تھے، جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔ حملے کے فوراً بعد بھارتی فوج اور جموں و کشمیر پولیس نے مشترکہ طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور دہشت گردوں کی تلاش کے لیے ایک بڑا سرچ آپریشن شروع کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس حملے کی سخت مذمت کی اور سعودی عرب کا دورہ مختصر کر کے واپس بھارت لوٹ آئے تاکہ صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔وہیں وزیرداخلہ امت شاہ نے مہلوکین کی جسد خاکی پر تعزیت کے پھول چڑھائے ہیں اور مہلوکین کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے انہیں ہمت دلانے کی کوشش کی ہے۔

وادی میں شٹ ڈاؤن کا اعلان
اس دہشت گرد حملے کے خلاف احتجاج کے طور پر کشمیر کی وادی میں 23 اپریل 2025 کو مکمل شٹ ڈاؤن کا اعلان کیا گیا۔ یہ فیصلہ سیاسی جماعتوں، تاجر برادری، نجی اسکولوں کی ایسوسی ایشن اور مذہبی تنظیموں نے مل کر کیا۔ یہ شٹ ڈاؤن گزشتہ 35 سالوں میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، جو اس حملے کی شدت اور عوامی غم و غصے کی عکاسی کرتا ہے۔ سری نگر سمیت وادی کے تمام بڑے شہروں میں دکانیں، ایندھن کے اسٹیشنز اور دیگر کاروباری ادارے بند ہیں، جبکہ صرف ضروری اشیاء کی دکانیں کھلی ہیں۔ اس کے علاوہ، کشمیر یونیورسٹی نے بدھ کے روز شیڈول تمام امتحانات ملتوی کر دیے اور نجی اسکول بھی بند ہیں ۔اس کے علاوہ کشمیر کے بیشتر اخبارات نے احتجاج ومذمت کے طورپر اخبارات کا رنگ سیاہ کردیا ہے۔ یہ بھی کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

سیاسی اور عالمی ردعمل
بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ نے حملے کے بعد فوری طور پر سری نگر کا دورہ کیا اور ایک ہنگامی سیکیورٹی اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے حملے کے ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کا عزم ظاہر کیا۔ عالمی سطح پر بھی اس واقعے کی مذمت کی گئی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جو اس وقت بھارت کے دورے پر تھے، نے اسے “شرمناک دہشت گردی” قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے بھی حملے کی مذمت کی اور متاثرین کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ مقامی سیاسی جماعتوں جیسے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے شٹ ڈاؤن کی حمایت کی اور عوام سے پرامن احتجاج کی اپیل کی۔

سیکورٹی اقدامات اور جاری تحقیقات
حملے کے بعد کشمیر کی وادی میں سیکورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا۔ اہم تنصیبات، سیاحتی مقامات اور شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ گاڑیوں کی تلاشی اور چیکنگ کا عمل بھی تیز کر دیا گیا۔ ایک گمنام عسکری گروپ “کشمیر ریزسٹنس” نے سوشل میڈیا پر حملے کی ذمہ داری قبول کی اور اسے بھارت کی طرف سے “آبادیاتی تبدیلی” کے خلاف جوابی کارروائی قرار دیا۔ حکام اس گروپ کے دعوؤں کی تحقیقات کر رہے ہیں اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا پتہ لگانے کے لیے آپریشن جاری ہے۔
سیاحت پر اثرات اور مستقبل کے خدشات
پہلگام، جو اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے “منی سوئٹزرلینڈ” کہلاتا ہے، سیاحوں کے لیے ایک اہم مقام ہے۔ 2024 میں تقریباً 35 لاکھ سیاحوں نے کشمیر کا رخ کیا تھا، لیکن اس حملے نے سیاحت کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ مقامی لوگوں اور ماہرین کا خیال ہے کہ اگر سیکورٹی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو یہ خطہ اپنی معاشی ترقی سے محروم ہو سکتا ہے۔ تاہم، کچھ سیاحوں نے حملے کے باوجود کشمیر آنے کا عزم ظاہر کیا اور مقامی انتظامیہ سے تحفظ کی یقین دہانی مانگی۔ حکومت اب دہشت گردی کے خاتمے اور سیاحوں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے نئے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
