Bharat Express DD Free Dish

Gaza Ceasefire

منصوبے میں کہا گیا ہے کہ تمام سول اور سیکیورٹی اختیارات قومی کمیٹی کو منتقل کیے جائیں گے، جو سرکاری اداروں کو چلانے، بنیادی عوامی خدمات کی فراہمی، قانون و نظم برقرار رکھنے اور غزہ میں حکومتی امور کی واحد مجاز اتھارٹی ہوگی۔ اس کے علاوہ تعمیر نو کے آغاز سے قبل غزہ کے مالی اور انتظامی معاملات کا مکمل آڈٹ بھی کیا جائے گا۔

امریکہ میں بھارت کے لیے تعینات امریکی سفیر سارجیو گورے نے صدر ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم مودی کو یہ دعوت پہنچائی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انہیں فخر ہے کہ وہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا پیغام وزیر اعظم مودی تک پہنچا رہے ہیں اور غزہ پیس بورڈ میں بھارت کی شرکت خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔

اسپین نے 2024 میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔ میڈرڈ غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی پر یورپ میں سب سے زیادہ تنقید کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔

قطر ایک بار پھر خود کو ایک فعال ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے، جو نہ صرف غزہ میں امن اور انسانی امداد کے لیے کام کر رہا ہے بلکہ عالمی بحرانوں میں بھی مکالمے اور سفارت کاری کے راستے کو آگے بڑھا رہا ہے۔

گزشتہ ماہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے مصر کا دورہ کیا تھا۔ کئی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہاں انہوں نے موساد اور سی آئی اے کے اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں۔ اس ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی کابینہ کو آگاہ کیا کہ حماس کے خلاف غزہ میں پاکستانی اور انڈونیشیا کی فوجیں تعینات کی جائیں گی۔

اسرائیل نے اتوار کو تصدیق کی کہ اُسے غزہ میں حماس کی جانب سے تین یرغمالیوں کی لاشیں موصول ہوئی ہیں۔ یہ اقدام جنگ بندی معاہدے کے تحت لاشوں کے تبادلے کے عمل کا حصہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے پر عمل نہیں کیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری جنگ میں اب تک کم از کم 68,116 افراد شہید اور 170,200 زخمی ہو چکے ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں اسرائیل میں 1,139 افراد مارے گئے تھے اور تقریباً 200 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو دارالحکومت دہلی میں سری لنکا کی وزیر اعظم ڈاکٹر ہرینی نیریکا امرسوریا اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدلتی سے الگ الگ ملاقات کی۔ دوطرفہ تعلقات کو نئی تحریک دینے اور علاقائی اور عالمی اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

غزہ پٹی میں دو سال سے جاری جنگ کے بعد بالآخر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی نافذ ہوگئی ہے۔ مصر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 عالمی رہنماؤں کی موجودگی میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اگرچہ اس معاہدے نے امیدیں بڑھا دی ہیں، لیکن کئی اہم امور پر معاہدہ اب بھی غیر واضح ہے۔