Trump says ‘war is over’ in Gaza: یہ میری آٹھویں جنگ ہوگی جو میں نے ختم کی ہے، بھارت-پاک جنگ کا بھی دیا حوالہ ، غزہ جنگ بندی پر ٹرمپ کا بیان
’’ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر آپ لوگ لڑنا چاہتے ہیں اور جوہری ہتھیار رکھنا چاہتے ہیں تو میں آپ دونوں پر 100، 150، یہاں تک کہ 200 فیصد ٹیرف لگا دوں گا۔‘‘ یہ معاملہ 24 گھنٹے میں حل ہوگیا۔ ٹیرف کے بغیر یہ جنگ کبھی نہیں رکتی۔
Jamaat-e-Islami Hind Welcomes Gaza Ceasefire : جماعت اسلامی ہند نے غزہ جنگ بندی کا کیا خیر مقدم، امیر سید سعادت اللہ حسینی نے غزہ کی تعمیر نو، انصاف اور حقیقی فلسطینی خودمختاری کا کیا مطالبہ
جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے غزہ میں طویل خونریزی کے بعد اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی قوتوں کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کو ایک ’مثبت اور امید افزا قدم ’ قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت ہند سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کے بعد تعمیرِ نو کے عمل میں اصولی اور فعال کردار ادا کرے۔
Israel Hamas Ceasefire Agreement : غزہ امن منصوبے پر اہم پیش رفت، اسرائیل-حماس نے ‘پیس پلان’ کے پہلے مرحلے کو دی منظوری، 200 امریکی فوجی کریں گے نگرانی
اسرائیل اور حماس نے غزہ میں تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 'امن منصوبے' کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت اسرائیلی ڈیفنس فورس غزہ کی پٹی سے ایک خاص حد کے اندر انخلاء کرے گی۔ حماس 72 گھنٹے بعد تمام مغویوں کو رہا کر دے گا۔ فریقین کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہونے کے بعد اس کی نگرانی کے لیے 200 امریکی فوجی تعینات کیے جائیں گے۔
PM Modi praises Gaza Peace plan : غزہ امن معاہدے پر اسرائیل اور حماس کے درمیان رضامندی، وزیراعظم نریندر مودی نے ٹرمپ اور نیتن یاہو کے رول کو سراہا
غزہ امن معاہدے پر اسرائیل اور حماس کے درمیان اتفاق رائے قائم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر اسرائیل اور حماس کے مابین ہونے والی رضامندی کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس پہل کا خیرمقدم کرتے ہوئے ٹرمپ اور نیتن یاہو کی قیادت کی ستائش کی۔
Israel-Hamas ceasefire: غزہ میں جشن کا ماحول، حماس اور اسرائیل غزہ جنگ بندی کے معاہدے پر متفق، 2000 فلسطینی قیدیوں کے بدلے حماس 20 یرغمالیوں کو کرے گا رہا
گٹیرس نے کہا کہ اقوام متحدہ اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی حمایت کرے گا اور وہ غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل کو تیز کرنے کے لیے تیار ہے۔ انسانی امداد اردن اور مصر کی سرحدوں پر موجود ہے۔
Gaza War: غزہ کی حمایت کو لے کر پاکستان کی فوج پر کھڑے ہوئے سوال
رپورٹ بتاتی ہے کہ فلسطینی مسئلے کو ایک بیان بازی کے ہتھیار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جب عوام میں جذبات تیز ہوتے ہیں تو اسے اٹھایا جاتا ہے لیکن اصل اقدامات کبھی نہیں کیے جاتے۔ فوج اسے ’قومی مفاد‘ اور ’اسٹریٹجک توازن‘ کہہ کر درست ٹھہراتی ہے، جبکہ اصل مقصد اپنی طاقت اور فوائد کو محفوظ کرنا ہوتا ہے۔
American Advertising Campaign in the Middle East: مشرق وسطیٰ میں امریکی مصنوعات کی اشتہاری مہم، ایک شاندار مگر سبق آموز داستان
یہ اشتہار اس سچائی کو نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کرتا ہے کہ آج کی دنیا میں ساکھ کی قیمت بہت زیادہ ہے، اور ایک غلط قدم یا ناسمجھی پر مبنی مہم، برسوں کی محنت پر پانی پھیر سکتی ہے۔
Famine is confirmed in Gaza: قحط نے غزہ شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،اسرائیلی وزارت خارجہ کی قحط کی تردید
آئی پی سی نے کہا کہ بھوک امداد کی ناکہ بندی سے پیدا ہوئی اور غزہ میں بڑے پیمانے پر رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ میں نصف ملین سے زیادہ لوگوں کو بھوک کی تباہ کن قلت کا سامنا ہے۔
New details emerge regarding the occupation of Gaza: “غزہ پر قبضہ” سے متعلق نئی تفصیلات آئی سامنے، 2026 تک جاری رہے گی فوجی مہم
بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی جانب سے اس جنگ کے دائرہ وسیع کرنے کے خطرات پر انتباہات میں اضافہ ہوا ہے، جو 2023 سے جاری ہے۔ اس دوران پورے غزہ میں غذائی قلت کے علاوہ طب، خوراک اور پانی کے وسائل کی شدید کمی اور اسپتالوں کی بگڑتی حالت بھی واضح طور پر عیاں کی جا رہی ہے۔
Netanyahu’s coalition is rattled : خطرے میں پڑگئی نتن یاہو کی سرکار، کسی بھی وقت جاسکتی ہے کرسی، اتحادیوں نے ساتھ چھوڑنے کا کردیا اعلان
کنیسٹ کے موسم گرما کے وقفے سے قبل یہ صورتحال نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جو جولائی کے آخر سے اکتوبر تک جاری رہے گا۔ اس وقفے سے نیتن یاہو کو یو ٹی جے کے ساتھ مذاکرات کے لیے اضافی وقت مل سکتا ہے تاکہ وہ انہیں اتحاد میں واپس لائیں۔





