Bharat Express DD Free Dish

Gaza Genocide

منصوبے میں کہا گیا ہے کہ تمام سول اور سیکیورٹی اختیارات قومی کمیٹی کو منتقل کیے جائیں گے، جو سرکاری اداروں کو چلانے، بنیادی عوامی خدمات کی فراہمی، قانون و نظم برقرار رکھنے اور غزہ میں حکومتی امور کی واحد مجاز اتھارٹی ہوگی۔ اس کے علاوہ تعمیر نو کے آغاز سے قبل غزہ کے مالی اور انتظامی معاملات کا مکمل آڈٹ بھی کیا جائے گا۔

ہندوستان کے ایک انتہائی قابل احترام سابق جج جسٹس ایس مرلی دھر، اس وقت بین الاقوامی سطح پر توجہ کا موضوع ہیں۔ انسانی حقوق اور انصاف کے لئے اپنے غیرجانبدارانہ نقطہ نظرکے لئے مشہورجسٹس مرلی دھرکو اب اقوام متحدہ (یو این) نے ایک اور اہم ذمہ داری سونپی ہے۔

طارق انور نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ ناانصافی سے متعلق معاملات پر اپنی آواز بلند کی ہے۔ بھارت نے ہمیشہ غیر جانب دار موقف اپنایا ہے، اور بھارت نے ہمیشہ جو بھی درست ہے، بین الاقوامی امن کے لیے جو بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں، اس میں اپنی دلچسپی دکھائی ہے۔

امریکی حکام نے دوسرے مرحلے کو پہلے مرحلے کی کامیابیوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔ وٹکوف کے مطابق، پہلے مرحلے میں زمینی سطح پر اہم انسانی اور سکیورٹی سے متعلق نتائج سامنے آئے۔

اسپین نے 2024 میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔ میڈرڈ غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی پر یورپ میں سب سے زیادہ تنقید کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔

الجزیرہ کے نمائندے ہانی محمود کے مطابق غزہ کے شہری 2026 میں داخل ہوتے وقت سخت اسرائیلی پابندیوں، خوراک و ادویات کی قلت اور غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ادھر فلسطینی محکمۂ موسمیات نے آج سے شدید موسمی حالات کی وارننگ جاری کی ہے،

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ہفتہ وار کابینہ اجلاس میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور کسی بھی قیمت پر آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرنے  کے اپنے مذموم ارادےکو دہرایا۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو اب انسانیت کے لیے کھڑا ہونا چاہیے، انہوں نے کہا کہ جب دنیا بھر میں عیسائیوں کو قتل کیا جا رہا ہے،تو خاموش رہنا جرم ہے۔ امریکہ اب صرف نظر نہیں رکھے گا۔ یہ کارروائی کرے گا۔

ر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا، جب نائجیریا جیسے ملک میں ہزاروں بے گناہ لوگ محض صرف اپنے مذہب کی وجہ سے مارے جاتے ہیں، تو دنیا کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ اب ٹھوس اقدام کرنے کا وقت ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری جنگ میں اب تک کم از کم 68,116 افراد شہید اور 170,200 زخمی ہو چکے ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں اسرائیل میں 1,139 افراد مارے گئے تھے اور تقریباً 200 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔