غزہ میں اسرائیلی فوج کی جارحیت نے 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 50,000 سے زائد فلسطینیوں کی جان لے لی ہے، غزہ کی وزارت صحت نے یہ اعداد وشمار جاری کی ہے۔ اس عرصے میں 113,274 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ اسرائیل نے حماس کے زیرقیادت حملے کے جواب میں اپنی فوجی کارروائیوں کو تیز کر دیا۔رپورٹ کے مطابق، یہ اعدادوشمار اس وقت سامنے آئے جب اسرائیل نے غزہ پر اپنے حملوں کو مزید تیز کر دی ہے، جس سے فلسطینیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ غزہ کے باشندوں کو بنیادی ضروریات جیسے خوراک، پانی اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے، کیونکہ اسرائیل نے مارچ کے اوائل سے علاقے پر مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل نے اپنی زمینی کارروائیاں دوبارہ شروع کی ہیں اور جنوری میں طے پانے والے دو ماہ کے جنگ بندی معاہدے کو اسرائیل نے توڑ دیا ہے۔
واضح رہے کہ حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے میں 1139 افراد ہلاک ہوئے تھے اور تقریباً 250 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔وزارت صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 41 فلسطینی شہید ہوئے ہیں کیونکہ اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنوری میں کیے گئے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد سے انکار کے بعد غزہ پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کی صورت میں اسرائیل کو غزہ سے اپنی افواج واپس بلانا پڑتیں ۔ یہ ایک شرط تھی جس پر اس نے مصر، قطر اور امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے میں اتفاق کیا تھا۔
شمالی غزہ میں غزہ شہر سے رپورٹنگ کرنے والے متعدد صحافیوں کا کہنا ہے کہ 50 ہزار شہادتیں صرف ایک محتاط تخمینہ ہے۔ یہ صرف وہ لوگ ہیں جو غزہ کی پٹی میں صحت کی سہولیات میں رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ بہت سے دوسرے ایسے ہیں جنہیں رجسٹر کیے بغیر دفن کر دیا گیا یا جو ملبے کے ڈھیروں تلے پھنس کر لاپتہ ہو گئے۔صحافیوں کا کہنا تھا کہ 50 ہزار سے زائد شہدا میں 17 ہزار بچے ہیں۔ ایک پوری نسل کا صفایا کر دیا گیا ہے، ان بچوں کو اپنے معاشرے کی سیاسی، معاشی اور فکری ترقی میں کردار ادا کرنا تھا۔غزہ میڈیا آفس کے مطابق، تصدیق شدہ شہادتوں میں 11 ہزار سے زیادہ لاپتا افراد شامل نہیں ہیں جن کے شہید ہوجانے کا خدشہ ہے، جبکہ لینسیٹ جریدے میں گزشتہ جولائی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے مجموعی اثرات کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اصل اموات کی تعداد ایک لاکھ 86 ہزار سے زائد ہوسکتی ہیں۔
ادھرغزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیل کے تازہ حملوں سے علاقے میں تباہی اور انسانی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین نے خبردار کیا ہے کہ امدادی سامان کی ترسیل میں بڑے پیمانے پر کمی کے باعث صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے۔ اسرائیل کے ان حملوں کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود فوجی آپریشن جاری ہے۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ خوف، بھوک اور بے بسی کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ بین الاقوامی برادری سے اس بحران کے حل کے لیے فوری اقدامات کی اپیل کی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



