Bharat Express DD Free Dish

Israel-Palestine War

اسرائیل گزشتہ 23 ماہ سے غزہ پر فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ جنگ سے متعلق ہولناک مناظر اور ویڈیوز عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنے ہیں، جس کے بعد اسرائیل بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

نیویارک میں 22 ستمبر کو فلسطین کو منظوری دینے سے متعلق ایک اہم میٹنگ ہونی ہے۔ میٹنگ میں کئی مغربی اور یوروپی ممالک کے بھی فلسطین کو منظوری دینے کی امید ہے۔ اب اس فہرست میں ایک ملک کا نام اور جڑگیا ہے۔

اسرائیل کے وحشیانہ اورجارحانہ اقدامات کی مذمت کے لیے دہلی کے جنتر منتر پرایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں شریک افراد نے غزہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال پرگہری تشویش کا اظہارکیا اورخبردارکیا کہ غزہ پراسرائیلی فوجی یا سیاسی کنٹرول قائم کرنے کی کوئی بھی کوشش محصورعلاقے میں جاری انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دے گی۔ اس احتجاج میں بڑی تعداد میں عام شہریوں، طلباء، سماجی، مذہبی، سیاسی رہنماؤں اورمعروف سول سوسائٹی کے کارکنوں سمیت دہلی واطراف کی ریاستوں سے سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔

غزہ کے عوام کو اب ایک نئے بڑے مسئلے کا سامنا ہے۔ لانسیٹ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ میں ایسی بیماریاں پھیل رہی ہیں جن کا علاج اینٹی بائیوٹک سے بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی وجہ سے بیماریاں زیادہ دیرتک رہتی ہیں۔

اسرائیل نے غزہ پر مکمل قبضے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے مرکز میں حماس کا آخری گڑھ المواسی ہے۔ یہ ریتیلا علاقہ گھنی آبادی والا ہے، جہاں حماس کے جنگجوؤں کے چھپے ہونے کا خدشہ ہے۔ اسرائیل کے اس قدم کی دنیا بھرمیں مذمت ہو رہی ہے کیونکہ اس سے غزہ میں انسانی بحران مزید گہرا ہوسکتا ہے۔

جرمن-اسرائیلی سوسائٹی نے مرٹز کے اقدام کی مذمت کی اور خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے اسلحہ کی ترسیل میں جوابی کارروائی کی تو جرمنی کی فضائی دفاع کی مستقبل کی صلاحیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ مرٹز نے اسرائیل سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ مغربی کنارے کے الحاق کی طرف مزید اقدامات سے گریز کرے۔

غزہ کی صورتحال پہلے ہی نازک ہے، جہاں مقامی ہسپتالوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھوک اور غذائی قلت کی وجہ سے چار اموات رپورٹ کی ہیں، جس سے اکتوبر 2023 کے حماس کے حملوں کے بعد سے بھوک سے متعلق اموات کی تعداد 197 ہو گئی ہے، جن میں 96 بچے شامل ہیں۔

دونوں وفود نے اپنی ملاقاتوں میں غزہ میں جاری انسانی المیے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کی مذمت کریں اور فلسطینیوں کے لیے فوری امداد فراہم کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو فلسطین کے عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیے۔

ہندوستان کی جانب سے پیش سفیر ہریش نے کہا کہ اقوام متحدہ کی کانفرنس سے کچھ ورکنگ پوائنٹس سامنے آرہے ہیں اور ان پر عمل درآمد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہمیں کاغذی حل سے مطمئن نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایسے عملی حل کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔

ملک کی مختلف ملی تنظیموں کے رہنماؤں نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی بربریت، قتل عام، بھکمری اور میڈیکل سہولیات نہیں فراہم کئے جانے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے پوری دنیا کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے بھارت ایکسپریس اردو سے خصوصی بات چیت میں تبادلہ خیال کیا۔