Bharat Express DD Free Dish

Israel-Palestine War

پریس کانفرنس میں ممتاز شخصیات نے کہا کہ "اسرائیلی بمباری اورمحاصرے کے باعث غزہ کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طورپرتباہ ہوچکا ہے۔ 20 لاکھ سے زائد شہری شدید غذائی قلت، صحت کے نظام کی تباہی اوردیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا کررہے ہیں۔ 90 فیصد سے زیادہ اسپتال یا تو مکمل طورپرتباہ ہوچکے ہیں یا ناقابلِ استعمال ہوچکے ہیں۔

سعودی عرب نے واضح کیا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا محض علامتی نہیں بلکہ علاقائی امن کے لیے "اسٹریٹجک ضرورت" ہے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ مملکت خطے اور عالمی سطح پر عادلانہ امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر نے عالمی برادری سے فیصلہ کن اقدام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی نظام کے لیے ایک سخت آزمائش کا وقت ہے۔ ہم تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل سے فوجی اور معاشی تعلقات ختم کریں۔ بنجامن نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی کے وارنٹ کی پاسداری کریں اوراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے ناجائز قبضے کے خاتمے کی قرارداد کی حمایت کریں۔

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے اسرائیل کے ذریعہ فلسطینوں پرحملہ کرنے کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے نیتن یاہو کو انسانیت کے خلاف جرائم کا قصوروارقراردیا۔

حماس نے اس تجویز پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے، لیکن مذاکرات ابھی جاری ہیں، اور کچھ اہم نکات پر اتفاق رائے باقی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کا مطالبہ ایک بڑی رکاوٹ ہے، جسے حماس نے "سرخ لکیر" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

غزہ میں غذائی قلت کا بحران نہ صرف فوری اموات کا باعث بن رہا ہے بلکہ اس کے طویل مدتی اثرات بھی تباہ کن ہیں۔ یونیسف اور دیگر امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ غذائی قلت کی وجہ سے بچوں کی نشوونما رک رہی ہے، دماغی صلاحیتوں پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔

نیتن یاہو نے بڑھتے ہوئے دباؤ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس شرط پر تنازع ختم کرنے کے لیے تیار ہیں کہ "اگر باقی ماندہ یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے، حماس اپنے ہتھیار ڈال دے، اس کے قاتل رہنما جلاوطن ہو جائیں اور غزہ کو غیر فوجی بنایا جائے۔

سابق وزیراعظم نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی حمایت کرے اور اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ غزہ سے مکمل انخلا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کا واحد راستہ مذاکرات اور فلسطینیوں کے جائز مطالبات کی منظوری ہے۔

بین الاقوامی برادری نے غزہ کے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، لیکن زمینی حالات میں بہتری کے امکانات کم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے فوری جنگ بندی اور امدادی رسائی کی اپیل کی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی پابندیوں کو "جنگی جرم" قرار دے رہی ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے مندوبین کو پیغام دیا کہ ملک میں امن امان قائم کرنے کے لئے ہم سبھی کو کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے ارباب مدرسہ اور جمعیۃ علماء ہند سے وابستہ افراد سے اپیل کی کہ وہ پیارومحبت کے پیغام کوآگے بڑھائیں اور ہندو مسلم کے درمیان بھائی چارہ کو قائم کریں۔