Bharat Express DD Free Dish

Israel-Palestine War

واضح رہے کہ پہلا مرحلہ چھ ہفتے جاری رہے گا جس میں غزہ سے 33 یرغمالیوں کی رہائی اور اس کے مقابل تقریبا 1900 فلسطینی گرفتار شدگان شامل ہیں۔اسی طرح مذکورہ مرحلے میں غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کا داخل کیا جانا شامل ہے۔

برلن میں ٹاؤن ہال کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اولاف شولز نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو مصر اور اردن منتقل کرنے کا منصوبہ پیش کرنے کے بعد انہیں بے دخل کرنا ’ناقابل قبول‘ ہوگا۔

چاروں یرغمالیوں کو جیسے ہی غزہ میں ریڈ کراس کوسونپا گیا، تل ابیب کے ایک چوک پرخوشی کی لہردوڑگئی، جہاں یرغمالیوں کی فیملی اوردوست جمع ہوئے تھے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، بڑی اسکرین پرچاروں کی رہائی کولائیودکھایا گیا اورتل ابیب میں لوگوں کوروتے ہوئے، مسکراتے ہوئے اورایک دوسرے کوگلے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔

قطری وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ بلنکن غزہ کی جنگ کے بعد غزہ کی دوبارہ تعمیر اور اسے حماس ا ور اسرائیل کے ذریعے دوبارہ منظم کرنے کا منصوبہ پیش کر رہے ہیں۔

دو ریاستی حل پر بھی بات چیت تیز کردی گئی ہے۔ناروے کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی کوشش کیلئے درجنوں ممالک میں اپنے مندوب بدھ کے روز ناروے بھیجیں گے۔

فلسطین میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا ہے کہ اسرائیل کو "غزہ میں تمام انسانی امداد فراہم کرنی چاہیے"۔غزہ میں انسانی صورت حال پر ایکشن لینا چاہیے۔اہلکار نے مزید کہاکہ ہمیں غزہ میں فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے۔

شمالی غزہ میں حماس کے ساتھ جھڑپ اور دھماکا خیز مواد پھٹنے سے میں 4 اسرائیلی فوج ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے، جبالیہ میں اسکول میں قائم پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی بمباری سے 2 بچوں سمیت 8 فلسطینی شہید ہوگئے۔

اسرائیل کے تازہ ہوائی حملے میں ایک صحافی سمیت تقریباً 22 فلسطینیوں کی موت ہوگئی۔ اسی کے ساتھ 7 اکتوبر 2023 کو جدوجہد شروع ہونے کے بعد سے ہلاک کئے گئے صحافیوں کی تعداد بڑھ کر 203 ہوگئی ہے۔

شمالی غزہ میں جبالیا، بیت حنون اور بیت لاہیا کا محاصرہ 70 روز سے جاری ہے جبکہ صیہونی فورسز کی جانب سے المواصی کیمپ پر بھی بمباری کی گئی۔اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں  کے دوران مزید 50 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے۔

جی سی سی سپریم کونسل نے غزہ، لبنان، اور مغربی کنارے میں جاری اسرائیلی جارحیت کے ساتھ یروشلم، اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات پر خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔ شہریوں کے تحفظ، جنگ کے خاتمے اور پائیدار حل پر سنجیدہ مذاکرات کےلیے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔