امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ سےمتلق اپنے سابقہ بیان سے یوٹرن لے لیا ہے اور اپنے موقف میں تبدیلی کی ہے اور یہ شاید عرب ممالک کے متحدہ فیصلے کی وجہ سے ہوا ہے ۔امریکی صدرنے اب زور دے کر کہا ہے کہ کوئی بھی کسی فلسطینی کو غزہ سے نہیں نکال رہا ہے۔ وائٹ ہاوس میں آئرش وزیراعظم مائیکل مارٹن کے ساتھ ملاقات کے دوران امریکی صدر نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں یہ بیان دیا ہے۔حالانکہ امریکی صدر اس سے پہلے فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنے اور غزہ کو خرید کر سیاحتی مرکز کے طور پر آباد کرنے کی بات کہی تھی اور انہوں نے اس کیلئے ایک ڈریم ویڈیو بھی شیئر کیا تھا جس میں ٹرمپ کا غزہ کیسا ہوگا اس کی عکاسی کی گئی تھی ،البتہ اب انہوں نے اپنے بیان سے یوٹرن لے لیا ہے۔
ادھر دوسری جانب حماس نے امریکی صدر کے اس تازہ ترین بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ حماس کے ایک عہدیدارقاسم نے کہا کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات غزہ کے لوگوں کی نقلِ مکانی کے کسی بھی خیال سے دستبرداری کی نمائندگی کرتے ہیں تو ہم ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہم (حماس) مطالبہ کرتے ہیں کہ قابض اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے کی تمام شرائط پر عمل درآمد کرنے کا پابند بنا کر اس پوزیشن کو مزید تقویت دی جائے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے کسی کو بے دخل نہ کیے جانے کے بیان کا ہم کھلے دل سے خیر مقدم کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ مصر، اردن اور خلیجی عرب ریاستوں نے خبردار کیا تھاکہ ایسا کوئی بھی منصوبہ پورے خطے کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ اس کے جواب میں عرب ریاستوں نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے 53 بلین ڈالر کا مصری منصوبہ بھی اپنایا جس سے فلسطینیوں کی نقل مکانی سے بچا جا سکے گا۔عرب وزرائے خارجہ نے بدھ کے روز کہا تھاکہ وہ مشرق وسطیٰ کے لیے ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف سے غزہ کی تعمیر نو کے مصری منصوبے کے بارے میں مشاورت جاری رکھیں گے جو امریکی صدر کے تجویز کردہ علاقے پر قبضے کے متبادل کے طور پر ہے۔قطر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہاکہ عرب وزرائے خارجہ نے غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا، جس کی منظوری 4 مارچ 2025 کو قاہرہ میں منعقدہ عرب لیگ کے سربراہی اجلاس کے دوران دی گئی تھی۔ انہوں نے امریکی ایلچی کے ساتھ تعمیر نو کی کوششوں کی بنیاد کے طور پر اس منصوبے پر مشاورت اور ہم آہنگی جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


