Bharat Express DD Free Dish

Hamas

حکام نے واضح کیا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کے دوران جمع کرائے گئے ہتھیار نہ تو اسرائیل اور نہ ہی کسی دوسرے فلسطینی گروہ کو منتقل کیے جائیں گے، بلکہ یہ تمام ہتھیار عبوری فلسطینی انتظامیہ کی تحویل میں رہیں گے۔

اکتوبر2024 میں حماس کے سربراہ یحییٰ سنواراسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد تنظیم کسی ایک رہنما کے بجائے پانچ رکنی قیادتی کمیٹی کے ذریعے چلائی جا رہی تھی۔ مسلسل جنگ اور اعلیٰ رہنماؤں کی ہلاکت کے باعث نیا انتخاب نہیں ہوسکا تھا۔ اب حماس نے خلیل الحیہ کو باضابطہ طورپرنیا سربراہ منتخب کرلیا ہے۔

ووٹنگ سے قبل شہر کی سڑکوں، بازاروں، بجلی کے کھمبوں، بے گھر افراد کے کیمپوں، کمیونٹی سینٹرز اور پناہ گزین خاندانوں کے علاقوں میں بھرپور انتخابی مہم دیکھنے کو ملی، جس سے عوامی دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے۔

گیارہ سال کے طویل انتظار کے بعد فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل کے لیفٹیننٹ حیدر گولڈن کی لاش اسرائیلی حکام کے حوالے کر دی ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نے کہا کہ ”ریاست کے قیام سے ہی یہ ہمارا اصول رہا ہے کہ ہم اپنے شہیدوں کو واپس لاتے ہیں۔ آج ہم وہی کر رہے ہیں۔ ہمیں لیفٹیننٹ حیدر گولڈن کی لاش موصول ہو گئی ہے اور شناخت کی باضابطہ تصدیق کا عمل شروع کیا جا رہا ہے“۔

اسرائیل نے اتوار کو تصدیق کی کہ اُسے غزہ میں حماس کی جانب سے تین یرغمالیوں کی لاشیں موصول ہوئی ہیں۔ یہ اقدام جنگ بندی معاہدے کے تحت لاشوں کے تبادلے کے عمل کا حصہ ہے۔

حماس امریکی صدرٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے کچھ پہلوؤں کے بارے میں غیریقینی ہے۔ مصرمیں بالواسطہ بات چیت کے دوران حماس نے اسرائیل سے غزہ سے مکمل انخلاء اورمستقل جنگ بندی کی ضمانت کا مطالبہ کیا۔ یرغمالیوں کی رہائی پر رضا مندی کے باوجود، اسرائیلی فوجیوں کے انخلاء سے متعلق ابہام نے جنگ بندی کوروک دیا ہے۔

اگرچہ بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں، لیکن عالمی امن کے معاملے میں دونوں رہنما ایک دوسرے کے اقدامات کو سراہنے سے گریز نہیں کرتے۔

حماس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ثالثی کے ذریعے فوری مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ امن منصوبے کی تفصیلات پر بات ہو سکے۔ تنظیم نے اس عمل کو قیدیوں کی رہائی کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔

اس حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ قطر کی علاقائی سالمیت اور سلامتی کو بیرونی حملوں سے بچانا امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔ اگر قطر پر کوئی مسلح حملہ ہوتا ہے، تو امریکہ اسے اپنی سیکورٹی اور امن کے لیے خطرہ تصور کرے گا، اور اس کے خلاف سفارتی، اقتصادی اور فوجی کارروائی کرے گا۔

بیان کے مطابق، پی سی پی اے 2018 میں قائم ہوا اور یہ بیرون ممالک میں حماس کے نمائندہ ادارے اور سفارت خانوں کے طور پر کام کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تنظیم شہری تحفظ کے نام پر سرگرم ہے لیکن دراصل اسرائیل کے خلاف حماس کی جانب سے پرتشدد مظاہروں، مارچ اور اشتعال انگیز سرگرمیوں میں ملوث ہے۔