Bharat Express DD Free Dish

Hamas

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ غزہ میں حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدہ کیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے منصوبے کی ممکنہ ناکامی کے خوف سے تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

اس تجویز سے پہلے اکتوبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNSC) میں اردن کی طرف سے ایک تجویز پیش کی گئی تھی۔ اس قرارداد میں اسرائیل اور حماس کی جنگ میں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

آئی آئی ٹی بمبئی کے طلباء نے الزام لگایا کہ مہمان مقرر سدھنوا دیش پانڈے نے فلسطینی عسکریت پسند زکریا زبیدی کی تعریف کی ہے۔

اپنے پیغام میں امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم امریکی یرغمالیوں کو گھر پہنچائیں اور اس خطے میں کشیدگی کو بڑھنے سے روکیں۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ کی نائب صدر کملا ہیرس اور ان کے شوہر ڈگ ایمہوف ہر سال دیوالی مناتے ہیں۔

حالات کس قدر خراب ہو چکے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ غزہ میں ہر دس منٹ میں ایک بچہ جام شہادت نوش کر دنیا بھر کے انسانیت کے خوساختہ علمبرداروں حالات کے آئینہ میں اسرائیل کے ظلم و بربریت کا عکس دکھا رہے ہیں

ترک پارلیمنٹ نے بروز منگل کوکا کولا اور نیسلے مصنوعات کو پارلیمانی ریستورانوں سے غزہ میں تنازع کے دوران اسرائیل کی مبینہ حمایت پر ہٹا دیا ہے۔اس اقدام کی تصدیق ترک پارلیمنٹ کے ایک بیان سے ہوئی۔دونوں کمپنیوں نے فوری طور پر روئٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں۔

فلسطینی حکام کے مطابق شمالی غزہ کے ایک گنجان آباد علاقے جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے میں50 سے زائد افراد مارے گئے، جب کہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی غزہ میں حماس کے عسکریت پسندوں اور ان کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا۔

وجین نے الزام لگایا کہ بی جے پی کا مقصد صرف فلسطین کی حمایت کرنے والوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانا ہے۔ سی ایم نے کہا کہ کیرالہ میں اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جے پی نڈا نے دعویٰ کیا کہ پنارائی وجین حکومت کیرالہ کوآپریٹیو بینک گھوٹالے میں ملوث ہیں۔ وزراء اور سابق وزراء سمیت کئی لوگوں نے مل کر یہ سب کیا۔ جس کی وجہ سے کئی لوگوں کو مالی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

اسرائیلی حملے کا ذکر کرتے ہوئے سونیا گاندھی اپنے مضمون میں لکھتی ہیں، ''غزہ اور اس کے گرد و نواح میں اسرائیلی فوج کی اندھا دھند کارروائیاں بہت سنگین ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں افراد جن میں معصوم بچوں، خواتین اور مردوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔