Bharat Express DD Free Dish

Hamas

قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا، ’’قطر کی ریاست اس بزدلانہ اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کرتی ہے، جس میں دوحہ میں حماس کے سیاسی بیورو کے متعدد اراکین کے رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ مجرمانہ حملہ تمام بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے اور قطری عوام اور قطر میں مقیم افراد کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔‘‘

جنرل دویدی کے اس بیان کو اس تناظر میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان کی انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی اب صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں۔

دریں اثنا نیتن یاہو نے اس منصوبے پر عالمی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم غزہ پر قبضہ کرنے نہیں جا رہے، ہم اسے حماس سے آزاد کروائیں گے۔‘‘

اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع نے وائی نیٹ نیوز کو تصدیق کی کہ دونوں خواتین اپنے شوہروں کی ہلاکت سے پہلے رفح کے راستے غزہ سے نکل گئی تھیں۔سمر اس وقت توجہ کا مرکز بنیں جب اسرائیلی دفاعی فورسز (آئی ڈی ایف) نے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں انہیں ایک سرنگ کے ذریعے فرار ہوتے دکھایا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ اگلے ہفتے تک جنگ بندی کا معاہدہ ہو جائے گا۔ انھوں نے حماس پر زور دیا ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ کرے۔

تفصیلات کے مطابق، غزہ میں دشمنانہ کارروائیاں دو ہفتوں کے اندرختم کردی جائیں گی اورجنگ کے خاتمے کی شرائط میں چارعرب ممالک جن میں مصراورمتحدہ عرب امارات شامل ہیں کوغزہ کا انتظام سنبھالنے کی ذمہ داری دی جائے گی۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کی تجویز پر دستخط کر دیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ایک پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’حماس کو جنگ بندی کی تجویز پیش کی، جس کی اسرائیل نے حمایت کی۔‘

اسرائیل کے وزیراعلیٰ بنجامن نیتن یاہو نے حماس کے غزہ کمانڈر محمد شنوار کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی۔ یہ حماس پر اسرائیل کا بڑا حملہ ہے۔ حالانکہ حماس نے ابھی اس پر کچھ نہیں کہا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے دفتر میں اس وقت تناؤ کی کیفیت ہے، جو امریکی صدرٹرمپ کی جانب سے غزہ کے بارے میں دیئے گئے سخت پیغام کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ اس دوران یہ بھی واضح ہوا کہ امریکہ اور حماس کے درمیان براہِ راست مذاکرات جاری ہیں، جبکہ دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات بھی ہورہے ہیں۔

غزہ میں اس وقت شدید تباہ کن جنگ جاری ہے اور دو ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری اسرائیلی محاصرے کے باعث خوراک، صاف پانی، ایندھن اور ادویات جیسی بنیادی اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔