Bharat Express DD Free Dish

Hamas

حماس نے امریکی صدر کے اس تازہ ترین بیان کا خیر مقدم کیا  ہے۔ حماس کے  ایک عہدیدارقاسم نے  کہا کہ اگر امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات غزہ کے لوگوں کی نقلِ مکانی کے کسی بھی خیال سے دستبرداری کی نمائندگی کرتے ہیں تو ہم ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

حماس کے ترجمان قاسم نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر امریکی صدر ٹرمپ کا یہ بیان غزہ پٹی کے لوگوں کو بےگھر کرنے کے اپنے خیالات سے پیچھے ہٹنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں تو ان کا استقبال ہے۔‘‘ قاسم نے مزید کہا کہ ’’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیلی قبضے کو جنگ بندی کے معاہدوں کی تمام شرائط پر عمل درآمد کرنے کا پابند بنا کر اس بیان کو مزید تقویت دی جائے۔‘‘

واشنگٹن نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اسرائیل کے مشورے سے فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ براہ راست خفیہ رابطے کئے۔ ٹرمپ کا نیا موقف سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پرسامنے آیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کو کمزور کر دیا ہے اور شام میں سینکڑوں اہداف پر حملے کیے ہیں تاکہ یہودی ریاست کے خلاف ایران کے حمایت یافتہ نئے محاذ کو کھولنے سے روکا جا سکے۔

قطر اور مصر کے ثالث لاکھوں فلسطینیوں کو شمال میں واپس جانے کی اجازت دینے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے ثالثوں کے  ذریعہ حماس سے یہود کے زندہ ہونے کے ثبوت  کا مطالبہ کیا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ حماس نے مصریوں کو یہ ثبوت دے دیے ہیں۔

جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ میں ہر روز انسانی امداد کے 600 ٹرکوں کو جانے کی اجازت دی جائے گی۔ ان میں سے 50 ایندھن لے جانے والے ٹرک اور 300 ٹرک شمال کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جہاں عام شہری سنگین صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق جنگ بندی کے پہلے دن غزہ سے تین خواتین یرغمالیوں کو رہا کیا جانا ہے۔ حماس کو ہفتے کی دوپہر تک ان کے نام فراہم کرنے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا، جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 251 یرغمالیوں کو غزہ واپس لے گئے۔ اس کے بعد یہودی ملک نے حماس کے زیر قبضہ غزہ پٹی پر حملے شروع کر دیے۔ اسرائیل کی فوجی کارروائی نے غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ غزہ میں حماس کے زیرانتظام وزارت صحت کے مطابق ہفتہ تک، تقریباً 46,899 فلسطینی ہلاک اور کم از کم 110,725 زخمی ہو چکے ہیں۔

حکومت کی طرف سے اس معاہدے کی منظوری کے بعد، معاہدے کے مخالفین ان فلسطینی سکیورٹی قیدیوں کی رہائی کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر سکتے ہیں، جنہیں رہا کیا جانا ہے، حالانکہ عدالت کی مداخلت کا امکان نہیں ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر جو بائیڈن اور نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ’درجنوں یرغمالیوں اور ان کے اہل خانہ کی تکالیف‘ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے کو آگے بڑھانے میں مدد کی۔