Bharat Express DD Free Dish

Gaza Genocide

مذاکرات گزشتہ دنوں کے مقابلے میں اب زیادہ قریب ہیں۔مارکو روبیو نے ملائیشیا میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے اجلاس کے موقع پر کہا ہےکہ ہم جنگ بندی کے حوالے سے پُرامید ہیں، ایسا لگتا ہے کہ عمومی طور پر فریقین کے درمیان شرائط پر اتفاق ہو چکا ہے۔

جنگ بندی کے مذاکرات جاری ہیں، لیکن اسرائیلی حملوں اور نقل مکانی کے منصوبوں نے امن کی کوششوں کو کمزور کیا ہے۔ مصر اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں پیشرفت کی اطلاعات ہیں، لیکن زمینی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

ڈنر میٹنگ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی بہت تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ بنجامن نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ کی میزبانی کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ ہم ایک طویل عرصے سے دوست ہیں اور ایک ساتھ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

اسرائیل نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ غزہ میں "بنیادی مقدار میں خوراک" کی اجازت دے گا تاکہ قحط کا بحران پیدا نہ ہو، لیکن اقوام متحدہ کے مطابق، منظور شدہ امدادی ٹرکوں کی تعداد نہایت کم ہے اور ابھی تک اس کی تقسیم بھی شروع نہیں ہوئی۔

اسرائیل کی طاقت اس کے ہتھیاروں میں نہیں، ہماری خاموشی میں ہے۔ وہ خاموشی جو عرب دنیا کی خاموش رضا مندی سے آتی ہے۔ وہ خاموشی جو صارف کی آنکھوں پر برانڈنگ کی پٹی باندھ کر آتی ہے۔ وہ خاموشی جو عالمی اداروں کی بے عملی سے جنم لیتی ہے۔ اور اب یہ خاموشی صرف انتخاب نہیں، بلکہ گناہ بن چکی ہے۔

ابھی بہت دیر نہیں ہوئی۔ بھارت کو واضح طور پر بات کرنی چاہیے، ذمہ داری سے عمل کرنا چاہیے اور مغربی ایشیا میں کشیدگی کو کم کرنے اور گفت و شنید کی طرف واپسی کے لیے ہر ممکن سفارتی چینل کا استعمال کرنا چاہیے۔

ایک اسرائیلی اہلکار اور اس معاملے سے واقف ایک امریکی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ مجوزہ معاہدے میں نہ صرف 60 دن کی جنگ بندی شامل ہے بلکہ 10 زندہ یرغمالیوں اور 18 مردہ یرغمالیوں کی باقیات کے حوالے کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

اسرائیلی کنیست ممبر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے، جس میں صرف پانچ دنوں میں کم از کم 378 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مشرقی غزہ شہر کے شجاعیہ اور زیتون کے علاقے بھی شدید بمباری اور فضائی حملوں کی زد میں آئے جس سے کئی رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔گزشتہ جمعرات کے روزبھی اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی میں ڈرون، فضائی اور توپ خانے سے حملے کیے تھے، جن میں 45 فلسطینی مارے گئے تھے۔

غزہ میں طبی ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ جمعے کی صبح سے اب تک پٹی میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 64 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔