تصویر: اے پی
ایک اسرائیلی کنیست (اسرائیلی قانون ساز اسمبلی کے) ممبر، زپی اسکاٹ نے حال ہی میں براہ راست ٹیلی ویژن پر کھلے عام کہا کہ کہ راتوں رات 100 سے زیادہ غزہ کے باشندے مارے گئے لیکن ’’دنیا کو کوئی پرواہ نہیں‘‘ ہے۔ اسرائیلی میڈیا چینل 12 سے بات کرتے ہوئے زپی اسکاٹ نے کہا ’’گزشتہ رات ہم نے تقریباً ایک سو غزہ کے باشندوں کو مار ڈالا… اب کسی کو اس کی پرواہ نہیں ہے… ہر کسی کو اس کی عادت ہو گئی ہے کہ آپ ہر رات 100 غزہ کے باشندوں کو مار سکتے ہیں… اور دنیا میں کسی کو کوئی بھی فرق نہیں پڑے گا۔‘‘
Knesset member Tzippy Scott: “Tonight we killed 100 Palestinians in Gaza, and no one in the world seems to care.” pic.twitter.com/zKL3UKAtOX
— Eye on Palestine (@EyeonPalestine) May 16, 2025
غزہ میں پیدا ہو گئی ہے قحط جیسی صورت حال
اسرائیلی کنیست ممبر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے غزہ میں اپنی فوجی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے، جس میں صرف پانچ دنوں میں کم از کم 378 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہفتے کے روز اسرائیل کی جانب سے ’’نئے آپریشن‘‘ کے اعلان کے بعد کم از کم دس افراد مارے گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کی متعدد رپورٹس کے مطابق ان فلسطینوں کو اس وقت مارا گیا جب وہ انسانی امداد جمع کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ سوشل میڈیا پر آٹے کے تھیلوں کے پاس خون میں لت پت پڑی لاشوں کی بدن میں سنسنی پیدا کر دینے والی تصاویر سامنے آئی ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کرتے ہوئے کسی بھی طرح کی انسانی امداد کو خطے میں داخل ہونے سے روک دیا ہے، جس کی وجہ سے غزہ میں قحط کی سی صورت حال پیدا ہو گئی ہے اور اقوام متحدہ سمیت متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں ے نشان زد کیا ہے کہ اس ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ کی آبادی بھوک کی شدت سے مر جائے گی اور یہ ناکہ بندی ایک انسان ساختہ قحط پیدا کر رہی ہے، جو غزہ میں لاکھوں جانوں کے نقصان سب بنے گی، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
کئی ممالک نے اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے دیا زور
دریں اثنا ہفتے کے روز کئی ممالک نے غزہ پر اسرائیل کی 19 ماہ سے جاری جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنے پر زور دیا ہے اور اسے اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے نسل کشی قرار دیا ہے۔ ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ہفتے کے روز اسرائیل پر ’’غزہ میں قتل عام روکنے کے لیے‘‘ بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں ’’انسانیت کے اصولوں کی خلاف ورزی‘‘ کو نشان زد کیا۔
وہیں اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ ’’اب مزید فلسطینی عوام کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے‘‘۔ انھوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ میں اپنے مہلک فوجی حملے فوراً بند کرے۔ واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیل کی نسل کشی میں اب تک 52000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ اسرائیل نے امدادی کارکنوں، صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں اور صحافیوں کو بھی ٹارگٹ حملوں میں ہلاک کیا ہے۔ اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں 200 سے زیادہ صحافی مارے جا چکے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


