Bharat Express DD Free Dish

Gaza Crisis

الجزیرہ کے نمائندے ہانی محمود کے مطابق غزہ کے شہری 2026 میں داخل ہوتے وقت سخت اسرائیلی پابندیوں، خوراک و ادویات کی قلت اور غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ادھر فلسطینی محکمۂ موسمیات نے آج سے شدید موسمی حالات کی وارننگ جاری کی ہے،

ابو عبیدہ کا آخری بیان ستمبر کے آغاز میں سامنے آیا تھا، جب اسرائیل نے غزہ شہر پر نئی فوجی کارروائی کے ابتدائی مراحل شروع کیے تھے اور علاقے کو جنگی زون قرار دیتے ہوئے سینکڑوں رہائشی عمارتیں تباہ کی گئی تھیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

گزشتہ ماہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے مصر کا دورہ کیا تھا۔ کئی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہاں انہوں نے موساد اور سی آئی اے کے اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں۔ اس ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی کابینہ کو آگاہ کیا کہ حماس کے خلاف غزہ میں پاکستانی اور انڈونیشیا کی فوجیں تعینات کی جائیں گی۔

اسرائیل نے اتوار کو تصدیق کی کہ اُسے غزہ میں حماس کی جانب سے تین یرغمالیوں کی لاشیں موصول ہوئی ہیں۔ یہ اقدام جنگ بندی معاہدے کے تحت لاشوں کے تبادلے کے عمل کا حصہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے پر عمل نہیں کیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

اسرائیل اور حماس نے غزہ میں تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 'امن منصوبے' کے پہلے مرحلے کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے تحت اسرائیلی ڈیفنس فورس غزہ کی پٹی سے ایک خاص حد کے اندر انخلاء کرے گی۔ حماس 72 گھنٹے بعد تمام مغویوں کو رہا کر دے گا۔ فریقین کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہونے کے بعد اس کی نگرانی کے لیے 200 امریکی فوجی تعینات کیے جائیں گے۔

حماس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ثالثی کے ذریعے فوری مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ امن منصوبے کی تفصیلات پر بات ہو سکے۔ تنظیم نے اس عمل کو قیدیوں کی رہائی کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔

منصوبے میں فوری جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی محفوظ رہائی اور مسلسل انسانی امداد کی فراہمی کو مرکزی نکات کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جب کہ اس کا حتمی مقصد غزہ کو خوشحالی اور پائیدار امن کا مظہر بنانا ہے۔

یہ بیان ٹرمپ نے نیویارک میں عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد دیا۔ اس اہم ملاقات میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے نمائندے بھی شامل تھے۔

یورپی یونین کے سربراہ کے ریمارکس پر وزیر گیڈون سار نے کہا کہ یورپی کمیشن کے صدر کے ریمارکس سے حماس کو تقویت ملتی ہے۔ یہ اسرائیل کی طرف سے غزہ کی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوششوں کو نظر انداز کرتا ہے۔