یروشلم، 3 نومبر: اسرائیل نے اتوار کو تصدیق کی کہ اُسے غزہ میں حماس کی جانب سے تین یرغمالیوں کی لاشیں موصول ہوئی ہیں۔ یہ اقدام جنگ بندی معاہدے کے تحت لاشوں کے تبادلے کے عمل کا حصہ ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے غزہ پٹی میں اسرائیلی افواج کے حوالے یہ لاشیں کیں، جنہیں شناخت کے لیے تل ابیب کے قومی فارنسک ادارے منتقل کر دیا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’شناخت کا عمل مکمل ہونے کے بعد اہل خانہ کو سرکاری طور پر اطلاع دی جائے گی‘‘۔
چینی خبررساں ایجنسی شِنہوا کے مطابق، اگر ان لاشوں کی شناخت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ تبادلے کے اُس عمل کا حصہ ہوں گی جس کے تحت حماس نے جنگ میں مارے گئے 360 فلسطینی جنگجوؤں کی لاشوں کے بدلے اسرائیل کے 28 یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس تازہ تبادلے کے بعد حماس کے پاس اب صرف آٹھ اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں باقی رہ گئی ہیں۔
حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے ایک بیان میں کہا کہ یہ لاشیں جنوبی غزہ کے شہر خاں یونس کے مشرقی علاقے میں ایک سرنگ سے برآمد کی گئیں۔ تنظیم کے مطابق، ان میں سے ایک لاش کی شناخت کرنل آصف ہمامی کے طور پر ہوئی ہے، جو اسرائیلی فوجی افسر تھے اور 7 اکتوبر 2023 کو کیبوتز نیرم کی حفاظت کرتے ہوئے حماس کے حملے میں مارے گئے تھے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ یہ اقدام تبادلے کے عمل کو جاری رکھنے کے گروپ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے ثالث ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
دوسری جانب، غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا کہ جنگ بندی کو تین ہفتے سے زائد گزرنے کے باوجود اسرائیلی گولہ باری میں کم از کم 236 فلسطینی ہلاک اور 600 زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد 68,865 تک پہنچ چکی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
