Bharat Express DD Free Dish

World News

بنگلہ دیش چھوڑنے کے بعد نئی دہلی میں پہلی مرتبہ ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ اپنے ملک کے عوام اور حامیوں کو موجودہ حالات میں تنہا نہیں چھوڑسکتیں۔ انہوں نے کہا ’’میری قسمت میں جو بھی لکھا ہے، میں اپنے لوگوں کے پاس واپس جاؤں گی۔ میں اپنے پیارے ہم وطنوں کو تکلیف میں چھوڑ کر بیرون ملک نہیں رہ سکتی۔ میری خواہش ہے کہ دسمبر میں بنگلہ دیش واپس جاؤں۔‘‘

روم کے اس فیصلے پر اسپین نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لین کو خط لکھ کر یورپی یونین سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔ اس خط میں اسپین کی حمایت اور مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے یورپی ممالک کو مشترکہ حکمت عملی پر واپس لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ابتدا میں تکنیکی نگرانی اور سگنل انٹیلی جنس پر انحصار کیا جا رہا تھا، تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر موجودگی کے باعث اب انسانی ذرائع (ہیومن انٹیلی جنس) کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ زیادہ پیچیدہ، سست اور خطرات سے بھرپور سمجھا جاتا ہے۔

اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مہنت ٹھاکر نے کہا ’’ہم انہیں کیا کہیں؟ نیپالی آمر یا نیپالی ہٹلر؟ وہ نیپالی ہٹلر بن چکے ہیں۔ جو کچھ وہ کہتے ہیں، وہی درست سمجھا جاتا ہے اور جو وہ نافذ کرتے ہیں، وہی قانون بن جاتا ہے۔ اس طرزِ حکمرانی سے ملک مزید بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘‘ 

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انتظامی حراست کے اختیارات کے مبینہ بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے تینوں افراد کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ تنظیم نے یہ بھی کہا کہ حکومت ایسے قوانین کا استعمال ان افراد کے خلاف بند کرے جو اظہارِ رائے کی آزادی، پُرامن اجتماع اور شخصی آزادی جیسے اپنے بنیادی حقوق استعمال کر رہے ہیں۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کے پہلے عوامی خطاب کے ساتھ شائع ہونے والی فہرست نے نئی سفارتی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ ایرانی حکومت کی باضابطہ توثیق سامنے نہیں آئی ہے۔ فہرست میں کیراسٹارمر، ایمانوئل میکرون، جورجیا میلونی، فریڈرک مرز، مارکو روبیو، پیٹ ہیگستھ، بریڈ کوپر، مائیک ہکابی، ایال ضمیر اور گیدون سار شامل ہیں۔

سی این این کے مطابق واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کی براہِ راست شمولیت سے مغربی ایشیا میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ وہیں دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران پر دوبارہ حملے کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔

حکومت نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ لاس گیارڈوس کے علاقے میں بھڑکنے والی آگ سے اب تک 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل 12 ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی تھی، تاہم بعد میں اس کی تصحیح کر دی گئی۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ (IRIB) کے مطابق دانِش چوراہے سے روضۂ امام رضا تک غیر معمولی ہجوم کے باعث آیت اللہ خامنہ ای کی میت کو فضائی راستے سے مزار تک منتقل کیا گیا۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے جنازے کے جلوس کے مناظر نشر کیے، جن میں سڑکوں کے دونوں جانب بڑی تعداد میں سوگوار سابق ایرانی رہنما کو آخری خراجِ عقیدت پیش کرتے دکھائی دیے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق فروری 2026 کے آخر میں شروع ہونے والی کشیدگی اب 100 دن سے زیادہ کا عرصہ طے کر چکی ہے۔ اگرچہ مختلف مواقع پر جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی امیدیں پیدا ہوئیں، تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔