Bharat Express DD Free Dish

Hamas Israel War

منصوبے میں کہا گیا ہے کہ تمام سول اور سیکیورٹی اختیارات قومی کمیٹی کو منتقل کیے جائیں گے، جو سرکاری اداروں کو چلانے، بنیادی عوامی خدمات کی فراہمی، قانون و نظم برقرار رکھنے اور غزہ میں حکومتی امور کی واحد مجاز اتھارٹی ہوگی۔ اس کے علاوہ تعمیر نو کے آغاز سے قبل غزہ کے مالی اور انتظامی معاملات کا مکمل آڈٹ بھی کیا جائے گا۔

مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے درمیان وزیر اعظم مودی نے اتوار کی دیر رات اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کرکے خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں لیڈروں نے جاری کشیدگی، بڑھتے فوجی تصادم اور شہری سلامتی سے متعلق خدشات پر گفتگو کی۔

ابو عبیدہ کا آخری بیان ستمبر کے آغاز میں سامنے آیا تھا، جب اسرائیل نے غزہ شہر پر نئی فوجی کارروائی کے ابتدائی مراحل شروع کیے تھے اور علاقے کو جنگی زون قرار دیتے ہوئے سینکڑوں رہائشی عمارتیں تباہ کی گئی تھیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

گیارہ سال کے طویل انتظار کے بعد فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل کے لیفٹیننٹ حیدر گولڈن کی لاش اسرائیلی حکام کے حوالے کر دی ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نے کہا کہ ”ریاست کے قیام سے ہی یہ ہمارا اصول رہا ہے کہ ہم اپنے شہیدوں کو واپس لاتے ہیں۔ آج ہم وہی کر رہے ہیں۔ ہمیں لیفٹیننٹ حیدر گولڈن کی لاش موصول ہو گئی ہے اور شناخت کی باضابطہ تصدیق کا عمل شروع کیا جا رہا ہے“۔

ترکی نے نسل کشی کے الزام میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سمیت 37 اسرائیلی اہلکاروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔ ترکی نے غزہ میں منظم نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام لگایا ہے۔ اسرائیل نے اسے"پبلسٹی اسٹنٹ" قراردیتے ہوئے مسترد کردیا ہے جبکہ حماس نے ترکی کے اس قدم کا خیر مقدم کیا ہے۔

گزشتہ ماہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے مصر کا دورہ کیا تھا۔ کئی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہاں انہوں نے موساد اور سی آئی اے کے اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں۔ اس ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی کابینہ کو آگاہ کیا کہ حماس کے خلاف غزہ میں پاکستانی اور انڈونیشیا کی فوجیں تعینات کی جائیں گی۔

اسرائیل نے اتوار کو تصدیق کی کہ اُسے غزہ میں حماس کی جانب سے تین یرغمالیوں کی لاشیں موصول ہوئی ہیں۔ یہ اقدام جنگ بندی معاہدے کے تحت لاشوں کے تبادلے کے عمل کا حصہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے پر عمل نہیں کیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری جنگ میں اب تک کم از کم 68,116 افراد شہید اور 170,200 زخمی ہو چکے ہیں۔ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں اسرائیل میں 1,139 افراد مارے گئے تھے اور تقریباً 200 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

غزہ پٹی میں دو سال سے جاری جنگ کے بعد بالآخر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی نافذ ہوگئی ہے۔ مصر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 عالمی رہنماؤں کی موجودگی میں غزہ امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اگرچہ اس معاہدے نے امیدیں بڑھا دی ہیں، لیکن کئی اہم امور پر معاہدہ اب بھی غیر واضح ہے۔