Bharat Express DD Free Dish

Hamas Israel War

اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے دفتر میں اس وقت تناؤ کی کیفیت ہے، جو امریکی صدرٹرمپ کی جانب سے غزہ کے بارے میں دیئے گئے سخت پیغام کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ اس دوران یہ بھی واضح ہوا کہ امریکہ اور حماس کے درمیان براہِ راست مذاکرات جاری ہیں، جبکہ دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات بھی ہورہے ہیں۔

ایلیگزینڈر کی رہائی نے غزہ میں جاری تنازع کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ میں اپنا کنٹرول بڑھایا ہے، تقریباً ایک تہائی علاقے کو "سیکیورٹی زون" کے طور پر خالی کرا لیا ہے اور امداد کے داخلے کو روک دیا ہے۔

حماس نے امریکی-اسرائیلی قیدی ایڈن الیکزینڈر کی رہائی کا اعلان کیا ہے، جوغزہ میں جنگ بندی میں ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔ توقع ہے کہ الیکزینڈر کی رہائی سے غزہ میں کشیدگی میں کمی آئے گی اورایک جامع سیاسی تصفیہ ہوگا۔ تاہم ریلیزکرنے کی تاریخ ابھی واضح نہیں ہے۔

حماس کے حکام نے کہا ہے ہم تمام قیدیوں کو رہا کرنے کو تیار ہیں ۔ تاہم ان اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے یہ شرط ہو گی کہ فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل بھی رہائی دے گا اور غزہ میں جنگ کے خاتمے اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلاء کی ضمانتیں دی جائیں گی۔

حماس نے اجلاس کے فیصلوں کو فلسطینی کاز کے لئے مثبت قدم قراردیا اور عرب ممالک سے کہا کہ وہ اس منصوبے کی کامیابی کے لئے عملی اقدامات کریں۔ حماس کا کہنا ہے کہ ہم عرب لیڈران کے اس موقف کی قدرکرتے ہیں، جوفلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت کرتا ہے۔

رفح شہر سے تعلق رکھنے والی ایک فلسطینی خاتون تساہل ناصر نے کہا، ’’رمضان کا مقدس مہینہ غزہ میں اپنی خوشیاں کھو چکا ہے۔ یہاں کوئی لالٹین ہے، کوئی سجاوٹ نہیں ہے اور نہ ہی ہلچل بھرے بازار ہیں۔ اس کے بجائے یہاں موت کی خاموشی ہے اور ہمیشہ تباہی کی بو پھیلتی رہتی ہے۔‘‘

اسرائیلی سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل جمعرات کو غزہ سے چار قیدیوں کی لاشیں وصول کرنے کی تیاری کر رہا ہے اور وہ ہفتے کے روز چھ زندہ قیدیوں کی واپسی کے لیے کام کر رہا ہے۔اگر یہ مکمل ہو جاتا ہے تو غزہ میں صرف چار قیدی رہ جائیں گے۔

معاہدے کے تحت حماس تمام خواتین (فوجی اور عام شہری) بچوں، اور 50 سال سے زیادہ عمر کے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی، حماس 6 ہفتوں کے دوران یرغمالیوں کو رہا کرے گی، اس دوران ہر ہفتے 3 یرغمالیوں کو رہا کیا جائیں گے۔

اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے آرمی چیف کے اس اعلان کو بنیاد بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نیتن یاہو بھی آرمی چیف کے ساتھ ہی استعفا دے کر گھر جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت اگیا ہے کہ نیتن یاہو کی پوری حکومت حماس کے سلسلے میں اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھراتے ہوئے مستعفی ہو جائے۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان 7 اکتوبر2023 سے جاری جنگ کے لئے جنگ بندی معاہدہ ہوگیا ہے۔ اس طرح سے دونوں ممالک میں خوشی کی لہر دیکھنے کو مل رہی ہے۔