Bharat Express DD Free Dish

Hamas Israel War

یرغمالیوں کے بارے میں عبیدہ نے کہا کہ ہم نے پہلے دن سے اپنے بندیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا تھا لیکن نیتن یاہو کے عزائم نے ان کی واپسی کو ایک سال تک روک دیا۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ یرغمالیوں کی قسمت اب اسرائیلی حکومت کے فیصلوں پر منحصر ہے۔ اگر اسرائیلی فوج پیش قدمی کرتی ہے تو ان کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

نومبر 2023 سے حوثی گروپ اسرائیل اور حماس جنگ کے درمیان فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں اسرائیل سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ حوثی باغیوں نے ’حماس اور حزب اللہ پر حملے‘ کے خاتمے تک حملے جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔

غزہ کی پٹی کے لیے ایک نئے انتظام کی بات بھی کی گئی ہے۔ یرغمالیوں کے رشتہ داروں نے اس منصوبے کی تعریف کی، لیکن حماس کے ایک اہلکار نے فوری طور پر اسے 'مضحکہ خیز' قرار دیا

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کی فضائیہ نے غزہ شہر میں ’ابن الہیثم‘ اسکول کے نام سے مشہور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر پر حماس کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا۔

الجزیرہ عربی کی رپورٹ کے مطابق، شمالی غزہ میں شہری دفاع کے ڈپٹی ڈائریکٹر ابو العبد مرسی جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے العالمی علاقے میں بمباری میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ مارے گئے ہیں۔

ایک طرف حماس اپنی شرطوں پر جنگ بندی چاہتا ہے تو وہیں دوسری جانب اسرائیل اپنی ضد پر قائم ہے ، درمیان میں امریکہ ایک ایسا راستہ نکالنے کی کوشش کررہا ہے جس پر حماس اور اسرائیل دونوں کیلئے خوشی خوشی چلنا مشکل ہورہا ہے۔

درحقیقت حماس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں حماس نے کہا ہے کہ اگر جنگ بندی کا معاہدہ نہیں ہوا تو دیگر یرغمالی بھی کفن میں اپنے گھروں کو واپس جانے والے ہیں۔ دراصل حماس ناراض ہے کہ ایک طرف اسرائیل اپنے قیدیوں کی رہائی چاہتا ہے تو دوسری طرف اس کی فوج مسلسل حملے کر رہی ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ امریکا اسرائیل کے دباؤ میں کام کر رہا ہے۔ اسرائیل نے اس تجویز میں نئی ​​شرائط شامل کی ہیں، جو ہمارے لیے قابل قبول نہیں۔

اسرائیل کے آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ہرزی ہیلوی نے (سنوار) کو تلاش کرنے، ان پر حملہ کرنے” اور حماس کو نیا لیڈر مقرر کرنے پر مجبور کرنے کا عزم کیا ظاہر کیا ہے۔وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک فوجی اڈے پر خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے اپنے دفاع کے عزم کا اعلان کیا۔

اس خط میں کہا گیا ہے کہ ہمیں اسرائیل کو فوجی ہتھیاروں اور جنگی سامان کی سپلائی کے لیے مختلف ہندوستانی کمپنیوں کو برآمدی لائسنس اور اجازت جاری رکھنے پر تشویش ہے۔