Bharat Express DD Free Dish

Middle East Crisis

سی این این کے مطابق بعض امریکی حکام کا خیال ہے کہ ٹرمپ رواں سال کے اختتام سے پہلے کسی بھی وقت فوجی کارروائی کا حکم دے سکتے ہیں، تاہم اس کا زیادہ امکان امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ظاہر کیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی افواج اب امریکی فوجی حکمت عملیوں سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ واقف ہیں، جس کے باعث امریکی فوج کے لیے تمام مطلوبہ اہداف کو تباہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ توانائی کی درآمد پر انحصار کرنے والے ممالک کو اس بحران کا زیادہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خام تیل اور گیس کی مہنگی درآمدات سے ان کے درآمدی اخراجات بڑھیں گے، جب کہ کرنسی کی قدر، حقیقی آمدنی اور سرکاری مالی وسائل پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

سعودی عرب اور ایران نواز حوثی گروپ کے درمیان ایک بار پھر پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے درمیان سعودی اتحاد نے بھی حوثی ٹھکانوں پر اپنی بمباری تیز کر دی ہے۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے 300 سے زیادہ فضائی حملوں کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔اس کے باوجود حوثی قیادت نے کھلی دھمکی دی ہے کہ اگر یمن پر فضائی حملے نہیں روکے گئے تو وہ سعودی عرب کی حدود کے اندر مزید جارحانہ کارروائیاں کرے گی۔

پانچویں بڑے فیصلے کے طور پر مشرق وسطیٰ اور علاقائی بحرانوں پر برکس ممالک نے تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں خطے میں جاری بحرانوں کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے محفوظ، جامع اور شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر ایک گورننس فریم ورک تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

دنیا بھر میں توانائی کا بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز پہلے ہی متاثر ہے، جبکہ سعودی عرب نے عراقی علاقے سے ہونے والے متعدد ڈرون حملوں کے بعد اپنی خام تیل کی پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی ہے۔ دوسری جانب یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر 18 گھنٹے تک جاری رہنے والے شدید حملے کے بعد حوثی باغی آبنائے باب المندب  پر کنٹرول حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ تینوں راستے عالمی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔

3 اگست تک خلیجی خطے سے 4,052 ہندوستانی ملاح واپس لائے گئے۔ گزرنے والے جہازوں میں 23 ہندوستانی پرچم بردار اور 39 غیر ملکی پرچم والے جہاز شامل۔ بحیرۂ اسود اور باب المندب کے لیے بھی ایڈوائزری جاری کردی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نجف اور کربلا میں جسد کو لے جانے کا فیصلہ محض مذہبی روایت نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی اور علامتی پیغام بھی رکھتا ہے۔ یہ اقدام آیت اللہ خامنہ ای کو عالمی شیعہ برادری کی مذہبی روایت، شہادت اور آئمہ اہل بیتؑ کی میراث سے جوڑنے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر فیصلہ نہیں ہوا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا: ’’ابھی تک ایران کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا ہے۔‘‘ انہوں نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ معاہدے پر جلد دستخط ہونے والے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے بھی امریکی دعوؤں پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایم ٹی سیٹے بیلو 10 جون کو آبنائے ہرمز کے قریب حملے کی زد میں آیا۔ جہاز پر سوار 24 بھارتی عملے کے ارکان میں سے 21 کو عمانی حکام کے تعاون سے بحفاظت بچا لیا گیا، جبکہ تین ہلاک ہوگئے۔ بھارت کی وزارتِ جہاز رانی نے جمعرات کو ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیجی ممالک کی بڑی مقدار میں تیل و گیس اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ ایران کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں تشویش پیدا ہوئی اور خام تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھنے میں آیا۔