Bharat Express DD Free Dish

Middle East Crisis

سعودی عرب اور ایران نواز حوثی گروپ کے درمیان ایک بار پھر پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے درمیان سعودی اتحاد نے بھی حوثی ٹھکانوں پر اپنی بمباری تیز کر دی ہے۔ تاہم حوثیوں کی جانب سے 300 سے زیادہ فضائی حملوں کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔اس کے باوجود حوثی قیادت نے کھلی دھمکی دی ہے کہ اگر یمن پر فضائی حملے نہیں روکے گئے تو وہ سعودی عرب کی حدود کے اندر مزید جارحانہ کارروائیاں کرے گی۔

پانچویں بڑے فیصلے کے طور پر مشرق وسطیٰ اور علاقائی بحرانوں پر برکس ممالک نے تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں خطے میں جاری بحرانوں کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے محفوظ، جامع اور شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر ایک گورننس فریم ورک تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

دنیا بھر میں توانائی کا بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز پہلے ہی متاثر ہے، جبکہ سعودی عرب نے عراقی علاقے سے ہونے والے متعدد ڈرون حملوں کے بعد اپنی خام تیل کی پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی ہے۔ دوسری جانب یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر 18 گھنٹے تک جاری رہنے والے شدید حملے کے بعد حوثی باغی آبنائے باب المندب  پر کنٹرول حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ تینوں راستے عالمی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔

3 اگست تک خلیجی خطے سے 4,052 ہندوستانی ملاح واپس لائے گئے۔ گزرنے والے جہازوں میں 23 ہندوستانی پرچم بردار اور 39 غیر ملکی پرچم والے جہاز شامل۔ بحیرۂ اسود اور باب المندب کے لیے بھی ایڈوائزری جاری کردی گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نجف اور کربلا میں جسد کو لے جانے کا فیصلہ محض مذہبی روایت نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی اور علامتی پیغام بھی رکھتا ہے۔ یہ اقدام آیت اللہ خامنہ ای کو عالمی شیعہ برادری کی مذہبی روایت، شہادت اور آئمہ اہل بیتؑ کی میراث سے جوڑنے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر فیصلہ نہیں ہوا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا: ’’ابھی تک ایران کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا ہے۔‘‘ انہوں نے ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ معاہدے پر جلد دستخط ہونے والے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے بھی امریکی دعوؤں پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایم ٹی سیٹے بیلو 10 جون کو آبنائے ہرمز کے قریب حملے کی زد میں آیا۔ جہاز پر سوار 24 بھارتی عملے کے ارکان میں سے 21 کو عمانی حکام کے تعاون سے بحفاظت بچا لیا گیا، جبکہ تین ہلاک ہوگئے۔ بھارت کی وزارتِ جہاز رانی نے جمعرات کو ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیجی ممالک کی بڑی مقدار میں تیل و گیس اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ ایران کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں تشویش پیدا ہوئی اور خام تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھنے میں آیا۔

وزیر اعظم مودی نے کویت میں مقیم بڑی بھارتی برادری کی سلامتی اور فلاح و بہبود کے لیے امیرِ کویت کی ذاتی توجہ اور کوششوں پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ پی ایم او کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں استحکام اور امن کے قیام کے لیے مسلسل رابطے اور تعاون ضروری ہیں۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق فروری 2026 کے آخر میں شروع ہونے والی کشیدگی اب 100 دن سے زیادہ کا عرصہ طے کر چکی ہے۔ اگرچہ مختلف مواقع پر جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی امیدیں پیدا ہوئیں، تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔