Bharat Express DD Free Dish

Hamas fighters

اسرائیل نے اتوار کو تصدیق کی کہ اُسے غزہ میں حماس کی جانب سے تین یرغمالیوں کی لاشیں موصول ہوئی ہیں۔ یہ اقدام جنگ بندی معاہدے کے تحت لاشوں کے تبادلے کے عمل کا حصہ ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کی تجویز پر دستخط کر دیے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ایک پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’حماس کو جنگ بندی کی تجویز پیش کی، جس کی اسرائیل نے حمایت کی۔‘

دوسری جانب فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت شروع کرنے کےعز م کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق جنگ بندی کے پہلے دن غزہ سے تین خواتین یرغمالیوں کو رہا کیا جانا ہے۔ حماس کو ہفتے کی دوپہر تک ان کے نام فراہم کرنے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

منگل کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد لبنانی فوج ایک بار پھر اس کی سرزمین پر قبضہ کر لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگلے 60 دنوں کے دوران، اسرائیل آہستہ آہستہ اپنی باقی افواج کو واپس بلا لے گا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران 1938 میں مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ فلسطین کا عربوں کے ساتھ وہی رشتہ ہے جو انگلستان کا انگریزوں سے ہے یا فرانس کا فرانسیسیوں سے ہے۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے رہنما یاسر عرفات سابق بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو اپنی بڑی بہن  مانتے تھے۔

یرغمالیوں کے بارے میں عبیدہ نے کہا کہ ہم نے پہلے دن سے اپنے بندیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا تھا لیکن نیتن یاہو کے عزائم نے ان کی واپسی کو ایک سال تک روک دیا۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ یرغمالیوں کی قسمت اب اسرائیلی حکومت کے فیصلوں پر منحصر ہے۔ اگر اسرائیلی فوج پیش قدمی کرتی ہے تو ان کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کی فضائیہ نے غزہ شہر میں ’ابن الہیثم‘ اسکول کے نام سے مشہور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر پر حماس کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے بڑے پیمانے پر چھاپوں سے مرنے والوں کی تعداد 29 ہو گئی ہے۔ جنین پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی محاصرہ چھٹے روز میں داخل ہو گیا، جس سے فلسطینیوں کو خوراک، پانی، بجلی اور انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہو پا رہی ہے۔

حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ اور ان کے محافظ کی نماز جنازہ جمعے کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ادا کردی گئی ہے۔ اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ قطر کے دارالحکومت دوحہ کی امام محمد بن عبدالوہاب مسجد میں ادا کی گئی جبکہ ان کی تدفین دوحہ کے شمال میں لوسیل کے ایک قبرستان میں کی گئی۔