Bharat Express DD Free Dish

Gaza Conflict

سونیا گاندھی نے غزہ موضوع پرمرکزی حکومت کی خاموشی پرسوال اٹھائے۔ بی جے پی نے جواب دیتے ہوئے کانگریس پرغیرملکی پالیسی کوووٹ بینک سے جوڑنے کا الزام لگایا ہے۔

وزیر اعظم مودی کے جاری دورۂ اسرائیل کے درمیان ایران نے اہم سفارتی بیان دیتے ہوئے بھارت سے فلسطین کے مسئلے پر فعال کردار ادا کرنے کی امید ظاہر کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ وزیر اعظم مودی اسرائیل میں قیام کے دوران فلسطینی عوام کے حقوق کا معاملہ ضرور اٹھائیں گے۔

وزیراعظم مودی کے اسرائیل دورے پر کانگریس نے سوال اٹھائے ہیں۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’مجھے امید ہے کہ وزیراعظم مودی اسرائیل دورے کے دوران کنیسٹ کو خطاب کرتے ہوئے غزہ کا ذکر کریں گے اور وہاں ہلاک ہونے والے بے گناہ مرد، خواتین اور بچوں کے قتل عام کے لیے انصاف کی بات کریں گے‘‘۔

غزہ میں جنگ کے بعد امن و بحالی کے عمل کو تیز کرنے کے مقصد سے قائم کیے گئے عالمی ”بورڈ آف پیس“ کی پہلی اہم میٹنگ امریکہ میں منعقد ہوئی، جس میں مختلف ممالک نے مالی امداد، سیکیورٹی تعاون اور امن فوج کی تعیناتی سے متعلق بڑے اعلانات کیے۔ اجلاس کی صدارت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کی، جنہوں نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے 10 ارب ڈالر کی خطیر امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں امن کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے قائم کیے گئے مجوزہ ”غزہ پیس بورڈ“ کو عالمی سطح پر شدید سفارتی دھچکا لگا ہے۔ اقوام متحدہ میں ویٹو پاور رکھنے والے تین مستقل ارکان فرانس، چین اور برطانیہ نے اس بورڈ میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

امریکہ میں بھارت کے لیے تعینات امریکی سفیر سارجیو گورے نے صدر ٹرمپ کی جانب سے وزیر اعظم مودی کو یہ دعوت پہنچائی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انہیں فخر ہے کہ وہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا پیغام وزیر اعظم مودی تک پہنچا رہے ہیں اور غزہ پیس بورڈ میں بھارت کی شرکت خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔

امریکی حکام نے دوسرے مرحلے کو پہلے مرحلے کی کامیابیوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔ وٹکوف کے مطابق، پہلے مرحلے میں زمینی سطح پر اہم انسانی اور سکیورٹی سے متعلق نتائج سامنے آئے۔

اسپین نے 2024 میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔ میڈرڈ غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی پر یورپ میں سب سے زیادہ تنقید کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔

الجزیرہ کے نمائندے ہانی محمود کے مطابق غزہ کے شہری 2026 میں داخل ہوتے وقت سخت اسرائیلی پابندیوں، خوراک و ادویات کی قلت اور غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ادھر فلسطینی محکمۂ موسمیات نے آج سے شدید موسمی حالات کی وارننگ جاری کی ہے،

ابو عبیدہ کا آخری بیان ستمبر کے آغاز میں سامنے آیا تھا، جب اسرائیل نے غزہ شہر پر نئی فوجی کارروائی کے ابتدائی مراحل شروع کیے تھے اور علاقے کو جنگی زون قرار دیتے ہوئے سینکڑوں رہائشی عمارتیں تباہ کی گئی تھیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا تھا۔