نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے پر کانگریس نے سوال اٹھائے ہیں۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’مجھے امید ہے کہ وزیراعظم مودی اپنی آنے والی اسرائیل دورے کے دوران کنیسٹ کو خطاب کرتے ہوئے غزہ کا ذکر کریں گے اور وہاں ہلاک ہونے والے بے گناہ مرد، خواتین اور بچوں کے قتل عام کے لیے انصاف کی بات کریں گے‘‘۔ وزیراعظم مودی منگل صبح اسرائیل کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ اپنے دو روزہ دورے کے دوران وہ اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ کو خطاب کریں گے۔ اس دورے پر کانگریس نے تنقید کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا بھارت اپنے اصولوں اور انسانی اقدار کے مطابق قدم اٹھائے گا۔
I hope that the Hon Prime Minister @narendramodi ji mentions the genocide of thousands of innocent men, women and children in Gaza while addressing the Knesset on his upcoming trip to Israel and demands justice for them. India has stood for what is right throughout our history as…
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) February 25, 2026
پرینکا گاندھی نے کہا کہ بھارت ایک آزاد ملک کے طور پر ہمیشہ حق و انصاف کے لیے کھڑا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، “ہمیں دنیا کو سچائی، امن اور انصاف کی روشنی دکھاتے رہنا چاہیے”۔ پرینکا گاندھی نے اپنے پوسٹ میں زور دیا کہ حکومت کے خلاف آواز اٹھانا 1.4 ارب بھارتیوں کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی پرامن اور غیر تشدد پر مبنی مزاحمت کی روایت، جو مہاتما گاندھی اور آزادی کی تحریک سے ہمیں ملی ہے، آج بھی برقرار رہنی چاہیے۔ کانگریس نے اس سے قبل یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چب پر کارروائی کے معاملے پر بھی حکومت کو نشانہ بنایا تھا۔ پرینکا گاندھی کا کہنا تھا کہ حکومت عالمی دباؤ کے سامنے جھک کر ملک کے مفادات سے سمجھوتہ کر رہی ہے اور اس لیے وزیراعظم کے اسرائیل دورے پر انسانی حقوق اور انصاف کے پہلوؤں کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔
بھارت کی فلسطین پالیسی پر جے رام رمیش کی تنقید
کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے بھی وزیراعظم کے دورے پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے اپنے ایکس پوسٹ میں سابق وزیراعظم جواہر لال نہرو کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ 20 مئی 1960 کو نہرو غزہ میں تھے اور وہاں اقوام متحدہ کی ایمرجنسی فورس میں تعینات بھارتی دستے سے ملے۔
20 मई 1960 को जवाहरलाल नेहरू ग़ज़ा में थे और वहां UN इमरजेंसी फोर्स में तैनात भारतीय टुकड़ी से मिले थे।
29 नवंबर 1981 को भारत ने फ़िलिस्तीन के साथ एकजुटता व्यक्त करते हुए एक स्मारक डाक टिकट जारी किया था।
18 नवंबर 1988 को भारत ने औपचारिक रूप से फ़िलिस्तीन राज्य को मान्यता दी थी।… pic.twitter.com/sLwDjxeahA
— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) February 25, 2026
جے رام رمیش نے مزید کہا کہ بھارت نے 29 نومبر 1981 کو فلسطین کے ساتھ یکجہتی ظاہر کرنے کے لیے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا اور 18 نومبر 1988 کو رسمی طور پر فلسطین کی ریاست کو تسلیم کیا تھا۔ انہوں نے کہا، “اب کے حالات مختلف ہیں، وزیراعظم مودی اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو کے ساتھ اپنی نزدیکی دکھا رہے ہیں، جنہوں نے غزہ کو ملبے اور دھول میں بدل دیا ہے اور مقبوضہ ویسٹ بینک میں غیر قانونی بستیوں کے پھیلاؤ کی سازش کی ہے”۔ جے رام رمیش نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “جب پوری دنیا نتن یاہو کی سخت تنقید کر رہی ہے، تب وزیراعظم مودی اخلاقی طور پر ناکامی کا مظاہرہ کر رہے ہیں”۔ یہ دورہ بھارت اور اسرائیل کے تعلقات، خطے میں انسانی حقوق اور عالمی سیاست کے حساس معاملات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اہم ہے۔ کانگریس کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات وزیراعظم کے دورے کی سمت اور عالمی ردعمل پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
