Bharat Express DD Free Dish

BJP vs Congress

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے نوجوانوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرنے کے لیے ایک بڑا منصوبہ تیار کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایت کے بعد پارٹی نے اس مقصد کے لیے ایک خصوصی اور اہم ٹیم تشکیل دی ہے، جو ملک کی یونیورسٹیوں اور اسکولوں میں جاکر نوجوانوں کے مسائل اور خدشات کو سمجھنے کی کوشش کرے گی۔

وندے ماترم کو لے کر جاری سیاسی تنازع کے درمیان کانگریس ورکنگ کمیٹی (CWC) نے صرف اس کے پہلے دو اشعار گانے کی تجویز منظور کی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ وندے ماترم اس کے لیے جذباتی مسئلہ ہے، جبکہ بی جے پی اسے سیاسی مسئلہ بنا رہی ہے۔ بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین نے کہا- ’کانگریس نے اپنی توہین کو پالیسی بنا لیا‘

2029 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے بی جے پی نئی ٹیم کے ساتھ تیاری میں مصروف، کانگریس میں کئی اہم عہدے خالی، پریانکا گاندھی کی تنظیمی ذمہ داری پر بھی ابہام اور ریاستی سطح پر اختلافات نے پارٹی کی مشکلات بڑھائیں

آچاریہ پرمود کرشنم نے جھارکھنڈ میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی پر راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کو جھارکھنڈ جاکر طلبہ کی پریشانیوں کو سمجھنا چاہیے اور وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے بات کرنی چاہیے۔

نیٹ پیپر لیک احتجاج ختم ہونے کے بعد ایف سی آر اے قانون اور اس میں مجوزہ ترمیم کو لے کر نئی سیاسی بحث شروع ہو گئی ہے۔ جانیے، ایف سی آر اے کیا ہے، یہ کیسے کام کرتا ہے اور مجوزہ ترمیم کے ذریعے حکومت اس میں کون سی تبدیلیاں کرنا چاہتی ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمان عمران مسعود نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور عام آدمی کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں متوسط اور غریب طبقہ شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، لیکن حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرتی نظر نہیں آتی۔

دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ہونے والے اس اجلاس میں کانگریس صدر ملّیکارجن کھڑگے، لوک سبھا میں قائد حزبِ اختلاف راہل گاندھی، ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، پارٹی کے جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی، سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو، شیو سینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور دیگر اپوزیشن لیڈر شریک ہوں گے۔

ششی تھرور کے مطابق بھارت نے اس نازک وقت میں کسی سیاسی اختلاف کو اہمیت دیے بغیر فوری طور پر لاکھوں لیٹر پینے کا پانی مالدیپ بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس امداد کے بدلے کوئی شرط عائد نہیں کی اور یہی وہ طرز عمل ہے جو حقیقی اعتماد پیدا کرتا ہے۔ ان کے مطابق ممالک کے درمیان تعلقات صرف سفارتی بیانات سے نہیں بلکہ عملی تعاون سے مضبوط ہوتے ہیں۔

مرکزی وزیر پیوش گوئل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل پوسٹ جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی عام سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک سنگین سازش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق کانگریس اور اپوزیشن جماعتیں ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

یہ سیاسی تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب راہل گاندھی حالیہ دنوں میں وزیر اعظم مودی کی اقتصادی اور خارجہ پالیسیوں پر مسلسل حملہ آور ہیں۔ راہل گاندھی نے وزیر اعظم کے پانچ ملکی دورے، معاشی صورتحال اور اٹلی میں وزیر اعظم جارجیا میلونی کو ’’میلوڈی‘‘ ٹافیاں تحفے میں دینے کے معاملے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔