Bharat Express DD Free Dish

BJP vs Congress

یہ سیاسی تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب راہل گاندھی حالیہ دنوں میں وزیر اعظم مودی کی اقتصادی اور خارجہ پالیسیوں پر مسلسل حملہ آور ہیں۔ راہل گاندھی نے وزیر اعظم کے پانچ ملکی دورے، معاشی صورتحال اور اٹلی میں وزیر اعظم جارجیا میلونی کو ’’میلوڈی‘‘ ٹافیاں تحفے میں دینے کے معاملے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق انتخابی عمل یکم جون سے شروع ہوگا۔ اسی دن سے امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی داخل کر سکیں گے۔ نامزدگی فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ 8 جون مقرر کی گئی ہے، جبکہ 9 جون کو کاغذات کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ امیدوار 11 جون تک اپنے نام واپس لے سکیں گے۔

پیوش گوئل نے کہا کہ عالمی سطح پر جو عزت، سرمایہ کاری اور اعتماد حاصل کرنے کے لیے بھارت نے کئی دہائیوں تک انتظار کیا، وہ آج وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ممکن ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق یہی کامیابیاں اپوزیشن کو برداشت نہیں ہو رہیں۔

ڈاکٹر شرما نے کہا کہ اتر پردیش میں اس وقت ترقی کا ایک نیا دور چل رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی بے مثال رفتار سے ہو رہی ہے، جس کے باعث شہروں کے درمیان سفر کا وقت کم ہوا ہے اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملا ہے۔

یہ عرضی ایک درخواست گزار ایس وگنیش شیشیر کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ راہل گاندھی اور ان کے اہل خانہ کے پاس ان کی معلوم آمدنی سے کہیں زیادہ اثاثے موجود ہیں۔ درخواست گزار نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے سی بی آئی کو ریگولر کیس درج کرنے کی ہدایت دی جائے تاکہ تمام حقائق سامنے آ سکیں۔

کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں بی جے پی کا ہر چھٹا رکن پارلیمنٹ مبینہ طور پر ووٹوں کی چوری کے ذریعے کامیاب ہوا ہے۔ انہوں نے نہ صرف انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے بلکہ ہریانہ کی موجودہ حکومت کو بھی ”گھسپیٹھیا“ قرار دے دیا، جس سے سیاسی ماحول میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

نتائج کے بعد اپوزیشن کے اہم رہنما اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی کے کچھ لوگ اور دیگر افراد ٹی ایم سی کی شکست پر خوشی منا رہے ہیں، لیکن انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ معاملہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کے جمہوری نظام سے جڑا ہوا ہے۔

ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق کانگریس نے پانچوں ریاستوں میں مجموعی طور پر 461 امیدوار میدان میں اتارے تھے، لیکن رجحانات کے مطابق پارٹی صرف تقریباً 91 نشستوں پر آگے چل رہی ہے، جو کہ مجموعی نشستوں کا قریب 20 فیصد بنتا ہے۔ اس صورتحال نے سیاسی مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا کانگریس بتدریج اپنی قومی حیثیت کھو رہی ہے۔

یہ معاملہ 2016 میں پیش آنے والے ایک سنسنی خیز قتل سے جڑا ہے، جس میں بی جے پی کے ضلعی پنچایت رکن یوگیش گوڑا کو دھارواڑ میں ان کے اپنے جم کے اندر تیز دھار ہتھیاروں سے بے رحمی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کیس میں عدالت نے کلکرنی سمیت 17 افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی اور ہر ایک پر 30 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

سروے کے مطابق 126 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کو 88 سے زائد نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو اسے باآسانی اکثریت کی حد سے آگے لے جاتا ہے۔ دوسری جانب انڈین نیشنل کانگریس کو تقریباً 31 نشستیں ملنے کی امید ہے، جبکہ آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کو 4 نشستیں مل سکتی ہیں۔ دیگر امیدواروں کے حصے میں 3 نشستیں جانے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔