Bharat Express DD Free Dish

Gaza Conflict

یہ بیان ٹرمپ نے نیویارک میں عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد دیا۔ اس اہم ملاقات میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے نمائندے بھی شامل تھے۔

دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں سخت رکاوٹوں کا شکار ہیں، جن میں سب سے بڑی رکاوٹ خود امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت ہے۔ امریکہ نے فلسطینی قیادت کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت سے بھی روک رکھا ہے۔

یہ اشتہار اس سچائی کو نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کرتا ہے کہ آج کی دنیا میں ساکھ کی قیمت بہت زیادہ ہے، اور ایک غلط قدم یا ناسمجھی پر مبنی مہم، برسوں کی محنت پر پانی پھیر سکتی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ غزہ شہرپر قابو پائے، جہاں تقریباً 10 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ بدھ کو اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ شہر کے باشندگان کومنتقل کرنے کی تیاری جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انسانی امداد کے مراکز قائم کئے جارہے ہیں اورخیمے فراہم کیے جا چکے ہیں، لیکن امدادی تنظیمیں جنوب میں ساحلی علاقے کی تباہ کن صورت حال کے بارے میں بار بار خبردارکرتی رہی ہیں۔ غزہ کی جنگ میں 60 ہزارسے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔

اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) کے 57 ممالک نے اسرائیل کی اقوام متحدہ کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے غزہ پر قبضے اورگریٹراسرائیل کی پالیسی کی مخالفت کی۔ غزہ کے اسپتال پر حملے میں 20 افراد ہلاک ہوئے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اس کی مذمت کی۔

اپریل میں پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد میکرون نے 12 جون کو وزیر اعظم مودی سے فون پر رابطہ کیا تھا، اس دوران انہوں نے کہا تھا کہ فرانس اس مشکل وقت میں ہندوستان اور اس کے شہریوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ فرانس اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔

آپ ایک ایسے صحافی کوجو مہینوں سے دن رات اپنا کام کر رہا ہو، قتل نہیں کر سکتے اور بعد میں صرف یہ کہہ کر بری ہو جائیں کہ "وہ حماس کے لیے کام کرتا تھا۔"

سونیا گاندھی نے وزیر اعظم سے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ خاموشی توڑیں اور ہندوستان کی تاریخی وراثت کے مطابق انصاف اور انسانیت کی آواز بنیں۔ انہوں نے کہا کہ جب عالمی برادری سکتے میں ہے تو گلوبل ساؤتھ کو ہندوستان کی قیادت کی اشد ضرورت ہے۔

اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم 59,676 فلسطینی ہلاک اور 143,965 زخمی ہو چکے ہیں۔

غزہ میں مقیم لوگوں کا کہنا ہے کہ آٹے جیسی بنیادی چیزیں حاصل کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ وزارت صحت نے بتایا کہ جنگ کے دوران اب تک 71 بچے غذائی قلت سے ہلاک ہو چکے ہیں،