غزہ کی صورتحال انتہائی ابتر ہے اور بنجامن نیتن یاہو نے قبضہ کرنے کا پلان بنایا ہے۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیوگوٹریس نے اسرائیل سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ شہرپرقبضے سے گریزکرے، کیونکہ انسانی تباہی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ انٹونیوگوٹریس نے جمعرات کو”ایکس” پرایک پوسٹ میں کہا “غزہ کے عام شہری ایک اورجان لیوا جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں اوراسرائیل کے غزہ پرقبضے کے اعلان سے ایک نیا اورخطرناک مرحلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔”
انٹونیوگوٹریس نے کہا “لاکھوں شہری دوبارہ نقل مکانی پرمجبور ہوں گے، جس سے خاندانوں کومزید شدید خطرات کا سامنا ہوگا، یہ فوری طور پررکنا چاہیے۔ اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔” گوتریس نے بتایا کہ “حالیہ دنوں میں غزہ میں ہلاکتوں اورتباہی کی سطح کی مثال نہیں ملتی”۔
غزہ ملبے اورلاشوں سے بھرا ہوا
انھوں نے مزید کہا “غزہ ملبے، لاشوں اوربین الاقوامی قانون کی ممکنہ سنگین خلاف ورزیوں کے شواہد سے بھرا ہوا ہے۔” اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے زوردیا کہ فوری اورمستقل جنگ بندی ضروری ہے، قیدیوں کوفوراً رہا کیا جائے اورجوظلم وستم ان پرکیا گیا اسے فوری طورپرختم کیا جائے۔ انہوں نے اسرائیل پرواضح ذمہ داریوں کی نشان دہی کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں خوراک، پانی، دوائیں اوردیگر ضروریات کی فراہمی کویقینی بنایا جائے، زیادہ انسانی رسائی کی سہولت دی جائے اورشہریوں اوربنیادی ڈھانچے کی حفاظت کی جائے۔
بنجامن نیتن یاہو نے فوج کودیا یہ حکم
اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہونے فوج کوہدایت دی ہے کہ وہ غزہ شہرپرقابوپائے، جہاں اندازاً 10 لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ بدھ کواسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ شہرکے باشندگان کومنتقل کرنے کی تیاری جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انسانی امداد کے مراکزقائم کئے جارہے ہیں اورخیمے فراہم کیے جا چکے ہیں، لیکن امدادی تنظیمیں جنوب میں ساحلی علاقے کی تباہ کن صورت حال کے بارے میں بار بار خبردارکرتی رہی ہیں۔ غزہ کی جنگ میں 60 ہزارسے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔ یہ اعداد وشمارحماس کے زیرانتظام وزارت صحت کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں جنہیں اقوام متحدہ معتبرمانتی ہے۔ یہ تنازعہ 7 اکتوبر2023 کوحماس کے اسرائیل پراچانک حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


