غزہ میں بھوک سے نڈھال کھانے ملے کے انتظار میں کھڑے افراد پر اسرائیلی فوج گولیا ں اور بم برسائے ،67 فلسطینی شہید ہوگے۔ یہ واقعہ اتوار (20 جولائی 2025) کو شمالی غزہ میں پیش آیا، جہاں اقوام متحدہ کی امدادی اشیاء کے منتظر لوگوں پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ کر دی۔ غزہ کی وزارت صحت نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جاں بحق افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے فوجیوں نے خطرے کے پیش نظر انتباہی فائرنگ کی تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ امدادی سامان لے جانے والے ٹرکوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر بیان کی جا رہی ہے۔
فلسطین میں بھوک میں اضافہ…
21 ماہ سے جاری جنگ کے باعث غزہ کا بیشتر حصہ ویران ہو چکا ہے اور قحط کی صورتِ حال دن بہ دن بگڑتی جا رہی ہے۔ فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ سینکڑوں افراد خوراک کی شدید کمی کی وجہ سے جلد ہی ہلاک ہو سکتے ہیں، کیونکہ اسپتال بھوک اور تھکن سے نڈھال مریضوں سے بھر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ نے بھی اتوار کو کہا کہ شہری بھوک سے مر رہے ہیں اور انہیں فوری امداد کی ضرورت ہے۔
پوپ لیو نے “جنگ کی بربریت” کے خاتمے کی اپیل کی ہے اور غزہ کے واحد کیتھولک چرچ پر اسرائیلی حملے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، جس میں تین افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
غزہ میں مقیم لوگوں کا کہنا ہے کہ آٹے جیسی بنیادی چیزیں حاصل کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ وزارت صحت نے بتایا کہ جنگ کے دوران اب تک 71 بچے غذائی قلت سے ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ 60 ہزار دیگر بچے اس کے اثرات سے متاثر ہیں۔ اتوار کو وزارت نے مزید بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 18 افراد بھوک سے ہلاک ہو گئے۔
رائٹرز سے چیٹ ایپس کے ذریعے بات کرنے والے کئی افراد نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں انہیں یا تو صرف ایک بار کھانا ملا یا پھر کچھ بھی نہیں ملا۔ ایک نرس زیاد نے بتایا، “ایک باپ ہونے کے ناطے میں صبح سویرے کھانے کی تلاش میں نکلتا ہوں، یہاں تک کہ اپنے پانچ بچوں کے لیے ایک روٹی ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں، مگر سب بے کار جاتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا، “جو لوگ بمباری سے نہیں مرے، وہ اب بھوک سے مریں گے۔ ہم اس جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم جنگ بندی چاہتے ہیں، چاہے صرف دو مہینے کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔”
کچھ افراد نے بتایا کہ انہیں سڑکوں پر چلتے ہوئے چکر آنے لگتے ہیں اور کئی لوگ چلتے چلتے بے ہوش ہو جاتے ہیں۔ باپ اپنے بچوں کے سوالات سے بچنے کے لیے خیمے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔
فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے مختص اقوام متحدہ کی ایجنسی (UNRWA) نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں مزید امدادی ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دے، اور کہا کہ ان کے پاس پوری آبادی کے لیے تین ماہ سے زائد کا خوراک موجود ہے، جسے غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
اب تک 58 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اب تک اس جاری تنازعے میں 58,000 سے زائد فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ غزہ اس وقت ایک سنگین انسانی بحران سے گزر رہا ہے۔
سیزفائر معاہدے پر بات چیت اب تک ناکام
قطر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان 60 دن کی جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی پر بات چیت جاری ہے، مگر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ اتوار کو غزہ کی سرحد کے قریب کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور اسرائیلی فوج نے اپنے فوجی آپریشن جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


