Bharat Express DD Free Dish

Attack on Gaza

منصوبے میں کہا گیا ہے کہ تمام سول اور سیکیورٹی اختیارات قومی کمیٹی کو منتقل کیے جائیں گے، جو سرکاری اداروں کو چلانے، بنیادی عوامی خدمات کی فراہمی، قانون و نظم برقرار رکھنے اور غزہ میں حکومتی امور کی واحد مجاز اتھارٹی ہوگی۔ اس کے علاوہ تعمیر نو کے آغاز سے قبل غزہ کے مالی اور انتظامی معاملات کا مکمل آڈٹ بھی کیا جائے گا۔

الجزیرہ کے نمائندے ہانی محمود کے مطابق غزہ کے شہری 2026 میں داخل ہوتے وقت سخت اسرائیلی پابندیوں، خوراک و ادویات کی قلت اور غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ادھر فلسطینی محکمۂ موسمیات نے آج سے شدید موسمی حالات کی وارننگ جاری کی ہے،

ابو عبیدہ کا آخری بیان ستمبر کے آغاز میں سامنے آیا تھا، جب اسرائیل نے غزہ شہر پر نئی فوجی کارروائی کے ابتدائی مراحل شروع کیے تھے اور علاقے کو جنگی زون قرار دیتے ہوئے سینکڑوں رہائشی عمارتیں تباہ کی گئی تھیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

گزشتہ ماہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے مصر کا دورہ کیا تھا۔ کئی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہاں انہوں نے موساد اور سی آئی اے کے اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں۔ اس ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی کابینہ کو آگاہ کیا کہ حماس کے خلاف غزہ میں پاکستانی اور انڈونیشیا کی فوجیں تعینات کی جائیں گی۔

آئی پی سی نے کہا کہ بھوک امداد کی ناکہ بندی سے پیدا ہوئی اور غزہ میں بڑے پیمانے پر رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ میں نصف ملین سے زیادہ لوگوں کو بھوک کی تباہ کن قلت کا سامنا ہے۔

پرینکا  گاندھی واڈرا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر لکھا:"الجزیرہ کے پانچ صحافیوں کا بے رحمانہ قتل فلسطینی سرزمین پر کیا گیا ایک اور ہولناک جرم ہے۔ جو لوگ سچ کے لیے کھڑے ہونے کی ہمت کرتے ہیں، ان کی بے پناہ جرأت اسرائیل کے تشدد اور نفرت سے کبھی نہیں ٹوٹے گا ۔

آپ ایک ایسے صحافی کوجو مہینوں سے دن رات اپنا کام کر رہا ہو، قتل نہیں کر سکتے اور بعد میں صرف یہ کہہ کر بری ہو جائیں کہ "وہ حماس کے لیے کام کرتا تھا۔"

ہولوکاسٹ کے بعد جرمنی نے اسرائیل کے ساتھ خصوصی تعلقات استوار کیے اور دفاعی شعبے میں تعاون بھی اس تعلق کا اہم حصہ رہا ہے۔ ایسے میں یہ فیصلہ ایک بڑی پالیسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

عالمی برادری کی طرف سے دباؤ بڑھ رہا ہے، جہاں 28 ممالک، بشمول برطانیہ اور فرانس، نے اسرائیل سے امداد کی پابندیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یو این کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے غزہ کے حالات کو "اخلاقی بحران" قرار دیا اور عالمی لاتعلقی کی مذمت کی۔

غزہ میں مقیم لوگوں کا کہنا ہے کہ آٹے جیسی بنیادی چیزیں حاصل کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ وزارت صحت نے بتایا کہ جنگ کے دوران اب تک 71 بچے غذائی قلت سے ہلاک ہو چکے ہیں،