Bharat Express DD Free Dish

Attack on Gaza

جنگ بندی کے مذاکرات جاری ہیں، لیکن اسرائیلی حملوں اور نقل مکانی کے منصوبوں نے امن کی کوششوں کو کمزور کیا ہے۔ مصر اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں پیشرفت کی اطلاعات ہیں، لیکن زمینی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

اسرائیل نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ غزہ میں "بنیادی مقدار میں خوراک" کی اجازت دے گا تاکہ قحط کا بحران پیدا نہ ہو، لیکن اقوام متحدہ کے مطابق، منظور شدہ امدادی ٹرکوں کی تعداد نہایت کم ہے اور ابھی تک اس کی تقسیم بھی شروع نہیں ہوئی۔

اسرائیل کی طاقت اس کے ہتھیاروں میں نہیں، ہماری خاموشی میں ہے۔ وہ خاموشی جو عرب دنیا کی خاموش رضا مندی سے آتی ہے۔ وہ خاموشی جو صارف کی آنکھوں پر برانڈنگ کی پٹی باندھ کر آتی ہے۔ وہ خاموشی جو عالمی اداروں کی بے عملی سے جنم لیتی ہے۔ اور اب یہ خاموشی صرف انتخاب نہیں، بلکہ گناہ بن چکی ہے۔

ایک اسرائیلی اہلکار اور اس معاملے سے واقف ایک امریکی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ مجوزہ معاہدے میں نہ صرف 60 دن کی جنگ بندی شامل ہے بلکہ 10 زندہ یرغمالیوں اور 18 مردہ یرغمالیوں کی باقیات کے حوالے کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

ٹرمپ کے خلیجی ممالک (قطر، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات) کے دورے کے دوران غزہ کا بحران سفارتی بات چیت کا اہم موضوع رہا۔ مصر نے حال ہی میں ٹرمپ کے دورے سے قبل غزہ میں جنگ بندی کے لیے ایک نئی امریکی تجویز موصول کی۔

واضح رہے کہ غزہ میں جنگ اس وقت شروع ہوئی جب حماس کے زیر قیادت عسکریت پسندوں نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا، جس میں 1200 افراد ہلاک اور 250 کے قریب یرغمال بنائے گئے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ 59 اسیران غزہ میں باقی ہیں۔

گزشتہ ماہ غزہ میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں 15 فلسطینی طبی عملے کی ہلاکت کی اسرائیلی تحقیقات میں اتوار کے روز کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں ’’پیشہ ورانہ ناکامیاں‘‘ سامنے آئی ہیں اور ردعمل کے طور پر ایک ڈپٹی کمانڈر کو برطرف کر دیا جائے گا۔

اسرائیلی طیاروں نے دیر البلاح کے علاقے میں شہریوں کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ابو مہدی خاندان کے چھ افراد بیک وقت مارے گئے۔

اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے دو بڑے ہسپتالوں کے باہر رات بھر خیموں پر حملہ کیا، جس میں ایک مقامی رپورٹر سمیت کم از کم دو افراد ہلاک اور چھ صحافیوں سمیت دیگر نو زخمی ہو گئے ہیں۔

منگل کے روز سے شروع کیے گئے تازہ اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 634 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔