اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے پیر کو غزہ کی پٹی پر قبضہ کرنے اور غیر معینہ مدت تک وہاں رہنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منصوبہ یرغمالیوں کی رہائی اور اسرائیل کی شرائط پر جنگ بندی کے لیے مذاکرات کے لیے حماس پر دباؤ بڑھانے کی اسرائیل کی کوششوں کا حصہ ہے۔ دونوں عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرکہا کہ اس منصوبے میں لاکھوں فلسطینیوں کی جنوبی غزہ کی طرف نقل مکانی بھی شامل ہے۔اتوار کو، اسرائیل کے ملٹری چیف آف اسٹاف، لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے کہا کہ ہم دسیوں ہزار ریزرو فوجیوں کو بلا ر ہے ہیں ، چونکہ اسرائیل غزہ میں “اضافی علاقوں میں آپریشن” کرے گا اور عسکریت پسندوں کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھے گا۔ اسرائیل پہلے ہی غزہ کے تقریباً نصف علاقے پر کنٹرول کررکھا ہے، جس میں اسرائیل کے ساتھ سرحد کے ساتھ ایک بفر زون کے ساتھ ساتھ تین کوریڈورز بھی شامل ہیں جو اس پٹی کے ساتھ مشرق-مغرب میں چلتے ہیں۔
کئی ہفتوں سے اسرائیل عسکریت پسند حماس گروپ پر دباؤ بڑھانے اور اسے مذاکرات میں مزید لچک دکھانے کی ترغیب دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ مارچ کے اوائل میں، اسرائیل نے غزہ میں امداد کے داخلے کو روک دیا، یعنی ایک ایسی پابندی جو اب بھی جاری ہے اور جس نے 2.3 ملین افراد کے علاقے کو جنگ کے بدترین انسانی بحران میں ڈال دیا ہے۔ بھوک بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہے۔مقامی صحت کے حکام کے مطابق، 18 مارچ کو، اسرائیلیوں نے علاقے میں دوبارہ حملے شروع کیے، جس کے بعد سے ہفتوں میں 2,600 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے اکثر خواتین اور بچے تھے۔
واضح رہے کہ غزہ میں جنگ اس وقت شروع ہوئی جب حماس کے زیر قیادت عسکریت پسندوں نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا، جس میں 1200 افراد ہلاک اور 250 کے قریب یرغمال بنائے گئے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ 59 اسیران غزہ میں باقی ہیں، حالانکہ خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً 35 ہلاک ہو چکے ہیں۔اسرائیل کی جارحیت سے غزہ میں 52,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے اکثر خواتین اور بچے ہیں،لڑائی نے غزہ کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی کو بے گھر کر دیا ہے، اور وہ زندگی اور موت کے بیچ ایسے الجھے ہوئے ہیں کہ ان کے سامنے سوائے لاچاری اور بے بسی کے کچھ نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


