Bharat Express DD Free Dish

Attack on Gaza

غزہ پٹی پر اسرائیلی فوج کا حملہ چوتھے روز بھی جاری ہے جب اس کی زمینی افواج نے شمالی اور جنوبی غزہ پر حملہ کیا اور اسرائیلی وزیر دفاع نے اس کے ساحلی علاقے پر قبضے کی دھمکی دی۔

اسرائیل کے غزہ پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے بعد سے حماس نے پہلی مرتبہ جوابی حملہ کرتے ہوئے تل ابیب پر راکٹ داغے ہیں۔ جمعرات کو غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے کہا کہ اسرائیل کے تازہ حملوں میں اب تک 190 سے زائد بچوں سمیت 504 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور ٹام فلیچر نے سلامتی کونسل کو برسلز سے ویڈیو کال کے ذریعے بتایا کہ راتوں رات ہمارے بدترین خدشات سچ ہو گئے۔ غزہ پٹی میں فضائی حملے دوبارہ شروع ہو گئے۔

اسرائیلی فوج نے غزہ پر جان لیوا حملوں کے بعد غزہ کے متعدد علاقوں کے رہائشیوں کو ’’فوری طور پر علاقہ خالی کرنے‘‘ کی دھمکی ہے۔ اسرائیل کے تازہ حملوں نے صرف کچھ ہی گھنٹوں کے اندر کم از کم 404 فلسطینیوں کی جان لے لی ہے اور 562 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جنگ بندی کی بات چیت کے دوران اسرائیل نے منگل کو غزہ پر اپنے حملے دوبارہ شروع کر دیے، جس نتیجے میں کم از کم 330 افراد ہلاک ہو گئے۔مقامی وقت کے مطابق صبح 2 بجے شروع کیا گیا یہ حملہ 19 جنوری کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے فلسطینی سرزمین پر ہونے والا سب سے مہلک حملہ ہے۔

صبح سے غزہ پر اسرائیلی حملوں کے مختلف واقعات میں  آج شہید ہونے والوں کی تعداد 143 ہوگئی ہے۔وہیں دوسری جانب سات اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 43 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن اور وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اپنے اسرائیلی ہم منصبوں کو لکھے گئے خط میں خبردار کیا ہے کہ یہ تبدیلیاں کسی بھی قیمت پر ہونی چاہئیں۔ اس خط میں انسانی امداد میں اضافے اور ہتھیاروں کی فراہمی کی امریکی پالیسی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

غزہ کی آبادی جنگ کے آغاز سے قبل لگ بھگ 24 لاکھ تھی جس میں سے 80 فی صد سے زائد لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور ان کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔خیال رہے کہ غزہ کی عسکری تنظیم حماس اور لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ کو امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین سمیت ان کے بیشتر اتحادی ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔

غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے الزام لگایا کہ اسرائیلی فورسز نے رات کے دوران ’’دو وحشیانہ قتل عام‘‘ کا ارتکاب کرتے ہوئے ایک مسجد اور ایک اسکول کی پناہ گاہ پر بمباری کی اور کم از کم 24 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ وہیں، ٹیلی گرام پر بتایا گیا کہ وسطی غزہ میں ہونے والے حملوں میں تقریباً 93 دیگر زخمی ہو گئے۔

غزہ کی پٹی کے لیے ایک نئے انتظام کی بات بھی کی گئی ہے۔ یرغمالیوں کے رشتہ داروں نے اس منصوبے کی تعریف کی، لیکن حماس کے ایک اہلکار نے فوری طور پر اسے 'مضحکہ خیز' قرار دیا