Bharat Express DD Free Dish

Israeli attacks on southern Gaza continue: جنوبی غزہ پر اسرائیلی حملے لگاتار جاری، سینئر حماس لیڈر سمیت 23 فلسطینی جاں بحق

منگل کے روز سے شروع کیے گئے تازہ اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 634 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

تصویر بشکریہ حاتم خالد/روئٹرز۔

جنوبی غزہ کے خان یونس میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں اتوار کے روز حماس کے اعلیٰ سیاسی رہنما صلاح البردویل اور ان کی اہلیہ ہلاک ہو گئیں۔ حماس نے اسرائیلی فوجی مہم میں شدت کی بھی بات کہی ہے۔ حماس کے حامی میڈیا کا کہنا ہے کہ فضائی حملے میں بردویل اور ان کی بیوی ماری گئی ہیں۔ اسرائیلی حکام نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ منگل کے روز سے شروع کیے گئے تازہ اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 634 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے رفح میں تل السلطان سے انخلاء کے احکامات جاری کرنے کے ساتھ ہی اتوار کے روز قبل از وقت اسرائیلی حملوں میں بردویل کے علاوہ کم از کم 23 مزید افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حماس کے میڈیا ایڈوائزر طاہر النونو نے اپنے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ میں بردویل کی موت پر افسوس کا اظہار کیا۔ اتوار کے اوائل میں پورے شمالی، وسطی اور جنوبی غزہ پٹی میں اسرائیلی طیاروں نے کئی اہداف کو نشانہ بنایا۔ایک بیان میں حماس نے اسرائیل پر بردویل کو قتل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت اپنی اہلیہ کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے جب ایک اسرائیلی میزائل خان یوسن میں ان کے خیمے پر گرا۔ حماس نے کہا ’’ان کا خون، ان کی اہلیہ اور شہیدوں کا خون فلسطین کی آزادی اور جنگِ آزادی کو تقویت دے گا۔ مجرم دشمن ہمارے عزم اور ارادے کو نہیں توڑ سکے گا۔‘‘

اس سے قبل حماس کے حکومتی سربراہ عصام عدلیس اور داخلی سلامتی کے سربراہ محمود ابو وتفہ منگل کے روز اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں کئی دیگر عہدیداروں میں شامل تھے۔ غزہ میں تباہی پھیلانے والے فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے درمیان عرب اور یورپی ممالک نے جنگ بندی کے مطالبات کیے ہیں۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں اسرائیل سے انسانی امداد کی رسائی بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read