Bharat Express DD Free Dish

At least 66 children die in Gaza: غزہ میں بھوک سے مرگئے 66 بچے،71ہزار بچوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار،حالات انتہائی خراب

اسرائیل نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ غزہ میں “بنیادی مقدار میں خوراک” کی اجازت دے گا تاکہ قحط کا بحران پیدا نہ ہو، لیکن اقوام متحدہ کے مطابق، منظور شدہ امدادی ٹرکوں کی تعداد نہایت کم ہے اور ابھی تک اس کی تقسیم بھی شروع نہیں ہوئی۔

غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران، کم از کم 66 بچوں کی غذائی قلت کے باعث موت ہوئی ہے، جب کہ اسرائیلی ناکہ بندی نے دودھ، غذائی سپلیمنٹس اور دیگر امدادی خوراک کے داخلے کو روک دیا ہے۔ غزہ کے حکومتی میڈیا آفس کے مطابق، یہ اعداد و شمار ہفتہ (29 جون 2025) کو جاری کیے گئے، جب اسرائیلی فورسز نے علاقے پر حملوں میں تیزی لاتے ہوئے 60 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کیا، جن میں سے 20 کا تعلق غزہ شہر کے طفاح محلے سے تھا۔ یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں غذائی قلت کا شکار بچوں کی تعداد “تشویشناک” حد تک بڑھ رہی ہے، جہاں مئی میں 5,119 بچوں (6 ماہ سے 5 سال کی عمر) کو شدید غذائی قلت کے علاج کے لیے ہسپتالوں میں داخل کیا گیا، جو اپریل کے مقابلے میں 50 فیصد اور فروری کے مقابلے میں 150 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے، جب جنگ بندی کے دوران امداد کی فراہمی بڑی مقدار میں ہو رہی تھی، لیکن جنگ بندی ختم ہوتے ہے اسرائیل نے گھٹیا حرکت شروع کردی۔

غزہ کے حکام نے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں، بشمول امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی، کو اس “تباہی” کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور غزہ میں داخلے کے راستے کھولے۔ اسرائیلی فوج نے 2 مارچ 2025 سے غزہ میں تمام امدادی سامان کی ترسیل پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جس سے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی قلت نے عوام کو شدید متاثر کیا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، ہر روز تقریباً 112 بچوں کو شدید غذائی قلت کے باعث ہسپتال میں داخل کیا جا رہا ہے، اور موجودہ صورتحال “تباہ کن سطح” سے آگے نکل چکی ہے۔ غزہ کے 36 میں سے صرف 17 طبی مراکز جزوی طور پر فعال ہیں، جب کہ شمالی غزہ اور رفح میں کوئی ہسپتال کام نہیں کر رہا، جس سے غذائی قلت اور بیماریوں کا علاج تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

اسرائیلی ناکہ بندی نے غزہ کی 21 لاکھ آبادی کو شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار بنایا ہے، جہاں آئی پی سی رپورٹ کے مطابق، 93 فیصد سے زائد بچوں (تقریباً 9,30,000) کو قحط کا خطرہ ہے۔ غزہ کے ہسپتالوں میں غذائی قلت کے علاج کے لیے صرف 500 بچوں کے لیے سامان باقی ہے، جو کہ ضرورت کا ایک معمولی حصہ ہے۔ امدادی تنظیمیں، جیسے کہ یونیسیف اور ڈبلیو ایف پی، نے خبردار کیا ہے کہ اگر ناکہ بندی نہ ہٹائی گئی تو اگلے 11 مہینوں میں 71,000 سے زائد بچوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہوگا۔ غزہ کے باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک وقت کا کھانا یا اس سے بھی کم پر زندہ ہیں، جب کہ پینے کا صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔

اسرائیل نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ غزہ میں “بنیادی مقدار میں خوراک” کی اجازت دے گا تاکہ قحط کا بحران پیدا نہ ہو، لیکن اقوام متحدہ کے مطابق، منظور شدہ امدادی ٹرکوں کی تعداد نہایت کم ہے اور ابھی تک اس کی تقسیم بھی شروع نہیں ہوئی۔ غزہ کے میڈیا آفس نے بتایا کہ 80 دن کی ناکہ بندی کے دوران 58 افراد غذائی قلت اور 242 دیگر خوراک اور ادویات کی کمی سے ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے اور بزرگ شامل ہیں۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر ناکہ بندی ختم کرنے اور انسانی امداد کی بحالی کے لیے دباؤ ڈالے، تاکہ غزہ کے عوام، خصوصاً بچوں، کو اس انسانی المیے سے بچایا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read