In Gaza, nearly a third not eating for days: غزہ کی ایک تہائی آبادی کو کئی دنوں سے نہیں ملا کھانا،بھوک سے تڑپ تڑپ کر دم توڑ رہے ہیں بچے
عالمی برادری کی طرف سے دباؤ بڑھ رہا ہے، جہاں 28 ممالک، بشمول برطانیہ اور فرانس، نے اسرائیل سے امداد کی پابندیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یو این کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے غزہ کے حالات کو "اخلاقی بحران" قرار دیا اور عالمی لاتعلقی کی مذمت کی۔
Israeli forces kill 110 Palestinians: اسرائیل نے غزہ میں تیز کیا قتل عام،سیزفائر کی بات چیت ہورہی ہے ناکام،تازہ حملے میں 110فلسطینی شہید
جنگ بندی کے مذاکرات، جو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہو رہے ہیں، اسرائیلی فوج کے انخلا کے حوالے سے تنازعات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں۔ رائٹرز اور اے ایف پی کے مطابق، حماس نے اسرائیل کی طرف سے پیش کیے گئے انخلا کے نقشوں کو مسترد کر دیا ہے۔
Israeli attacks kill 82: غزہ میں حیوانیت کی انتہا، اسرائیلی درندگی میں 82 فلسطینی شہید،قریب تین درجن زخمی،غزہ سے بے دخل کرنے کا بھی منصوبہ
جنگ بندی کے مذاکرات جاری ہیں، لیکن اسرائیلی حملوں اور نقل مکانی کے منصوبوں نے امن کی کوششوں کو کمزور کیا ہے۔ مصر اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں پیشرفت کی اطلاعات ہیں، لیکن زمینی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔
At least 66 children die in Gaza: غزہ میں بھوک سے مرگئے 66 بچے،71ہزار بچوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار،حالات انتہائی خراب
اسرائیل نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ غزہ میں "بنیادی مقدار میں خوراک" کی اجازت دے گا تاکہ قحط کا بحران پیدا نہ ہو، لیکن اقوام متحدہ کے مطابق، منظور شدہ امدادی ٹرکوں کی تعداد نہایت کم ہے اور ابھی تک اس کی تقسیم بھی شروع نہیں ہوئی۔
Gaza-Israel war continues: اسرائیل کا قہر غزہ پر ہنوز جاری، تازہ حملوں میں 34 افراد جاں بحق، اب تک 56 ہزار سے زائد افراد ہلاک
اسرائیل کے ذریعہ تازہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتہ جنگ بندی سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔ 27 جون کو ٹرمپ نے میڈیا سے کہا تھا کہ ’’ہم غزہ پر کام کر رہے ہیں۔‘‘





