Bharat Express DD Free Dish

In Gaza, nearly a third not eating for days: غزہ کی ایک تہائی آبادی کو کئی دنوں سے نہیں ملا کھانا،بھوک سے تڑپ تڑپ کر دم توڑ رہے ہیں بچے

عالمی برادری کی طرف سے دباؤ بڑھ رہا ہے، جہاں 28 ممالک، بشمول برطانیہ اور فرانس، نے اسرائیل سے امداد کی پابندیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یو این کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے غزہ کے حالات کو “اخلاقی بحران” قرار دیا اور عالمی لاتعلقی کی مذمت کی۔

غزہ میں جاری انسانی بحران نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے، جہاں اقوام متحدہ (یو این) کے مطابق تقریباً ایک تہائی آبادی کئی دنوں سے کھانے سے محروم ہے۔ غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں میں کم از کم 122 افراد بھوک اور غذائی قلت کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے 80 بچے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور دیگر امدادی گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی ناکہ بندی اور امدادی ترسیل پر پابندیوں نے “بڑے پیمانے پر بھوک” کو جنم دیا ہے، جو ایک “انسانی ساختہ تباہی” ہے۔ امدادی تنظیمیں جیسے کہ ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز اور آکسفیم نے بتایا کہ غزہ میں غذائی اشیا، صاف پانی اور طبی سامان کے ذخائر موجود ہیں لیکن انہیں تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

اسرائیلی فوج کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ “آنے والے دنوں میں” غیر ملکی ممالک کو غزہ میں امدادی سامان ایئر ڈراپ کرنے کی اجازت دیں گے۔ تاہم، امدادی ایجنسیوں نے اس اقدام کو خطرناک، ناکافی اور مہنگا قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے کہا کہ غزہ میں روزانہ صرف 28 ٹرک امدادی سامان تقسیم کیا جا رہا ہے، جبکہ جنگ سے پہلے 500 ٹرک روزانہ داخل ہوتے تھے۔ امدادی تنظیمیں اسرائیل سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ ناکہ بندی ختم کرے اور یو این کی قیادت میں امدادی نظام کو بحال کرے، کیونکہ موجودہ امریکی حمایت یافتہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے تقسیم کے مقامات پر 1,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

غزہ میں بھوک کا بحران اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب مارچ 2025 میں اسرائیل نے امداد پر مکمل پابندی عائد کی، جو مئی میں جزوی طور پر نرم کی گئی۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے اسے “انسانی ساختہ بڑے پیمانے پر بھوک” قرار دیا، اور کہا کہ امدادی مقامات تشدد کا شکار بن گئے ہیں۔ یو این آر ڈبلیو اے کے سربراہ فیلیپ لازارینی نے جی ایچ ایف کے نظام کو “سفاکانہ موت کا جال” قرار دیا، جہاں امداد کے متلاشی افراد پر فائرنگ کی جاتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، غزہ کے اسپتالوں میں بھوک سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور طبی عملہ خود بھوک کی وجہ سے کمزوری کا شکار ہے۔

امدادی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جو کہ بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم ہے۔ 111 سے زائد تنظیموں، بشمول مرسی کور، آکسفیم، اور ایمنسٹی انٹرنیشنل، نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ غزہ کے باہر گوداموں میں خوراک اور طبی سامان کے ڈھیر موجود ہیں، لیکن اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے ان کی ترسیل ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بتایا کہ مئی 2025 سے اب تک 1,054 افراد امداد حاصل کرنے کی کوشش میں ہلاک ہوئے، جن میں سے 766 جی ایچ ایف کے مقامات پر مارے گئے۔ یو این نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امدادی کارکنوں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

عالمی برادری کی طرف سے دباؤ بڑھ رہا ہے، جہاں 28 ممالک، بشمول برطانیہ اور فرانس، نے اسرائیل سے امداد کی پابندیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یو این کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے غزہ کے حالات کو “اخلاقی بحران” قرار دیا اور عالمی لاتعلقی کی مذمت کی۔ دوسری طرف، اسرائیل نے شہریوں کو نشانہ بنانے سے انکار کیا اور امداد کی کمی کے لیے اقوام متحدہ اور حماس کو مورد الزام ٹھہرایا۔ تاہم، غزہ کے رہائشیوں اور امدادی کارکنوں کی گواہیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھوک اور تشدد کی وجہ سے حالات بد سے بدتر ہو رہے ہیں، اور فوری طور پر بڑے پیمانے پر امداد کی ضرورت ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read