غزہ میں اسرائیلی درندگی نے ایک اورہولناک رات بنادی۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں کم از کم 82 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دير البلاح میں ایک تباہ کن حملے میں 15 افراد ہلاک ہوئے، جن میں نو بچے اور چار خواتین شامل تھیں، جو غذائی امداد کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔ اس حملے میں 30 دیگر زخمی ہوئے، جن میں سے 19 بچے تھے۔ ان حملوں نے انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، جہاں اسپتال ایندھن اور طبی سامان کی کمی سے جوجھ رہے ہیں۔ حماس نے ان حملوں کو “نسل کشی کی جاری مہم” کا حصہ قرار دیتے ہوئے اسرائیل پر اسکولوں، سڑکوں اور نقل مکانی کے کیمپوں میں شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔
زبردستی نقل مکانی کے منصوبے اور عالمی ردعمل
ان حملوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے فلسطینیوں کو زبردستی جنوبی غزہ کے شہر رفح میں خیمہ بستیوں میں منتقل کرنے کا اعلان کیا، جسے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) نے مصر کی سرحد پر “بڑے پیمانے پر حراستی کیمپ” بنانے کے طور پر تنقید کی۔ UNRWA کی تمارا الریفائی نے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس سے جنگ بندی کے مذاکرات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ عالمی برادری نے اس منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ یہ غزہ کی پہلے سے خراب صورتحال کو مزید پیچیدہ کر سکتا ہے۔
جنگ بندی کے مذاکرات اور تازہ ترین صورتحال
وہیں دوسری جانب جنگ بندی کے مذاکرات جاری ہیں، لیکن اسرائیلی حملوں اور نقل مکانی کے منصوبوں نے امن کی کوششوں کو کمزور کیا ہے۔ مصر اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں پیشرفت کی اطلاعات ہیں، لیکن زمینی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ عالمی اداروں نے فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلا روک ٹوک ترسیل کا مطالبہ کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، غزہ میں شہریوں کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں، جہاں بجلی کی کمی اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو غزہ میں انسانی المیہ اور بھی سنگین ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

