Bharat Express DD Free Dish

Gaza Hospital Crisis

جنگ بندی کے مذاکرات جاری ہیں، لیکن اسرائیلی حملوں اور نقل مکانی کے منصوبوں نے امن کی کوششوں کو کمزور کیا ہے۔ مصر اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں پیشرفت کی اطلاعات ہیں، لیکن زمینی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے غزہ کے صحت کے شعبے کو "گھٹنوں کے بل" قرار دیا ہے، جہاں ایندھن، طبی سامان کی کمی اور اسرائیلی حملوں سے مسلسل ہونے والے زخمیوں کی آمد نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔

اسرائیل کی طاقت اس کے ہتھیاروں میں نہیں، ہماری خاموشی میں ہے۔ وہ خاموشی جو عرب دنیا کی خاموش رضا مندی سے آتی ہے۔ وہ خاموشی جو صارف کی آنکھوں پر برانڈنگ کی پٹی باندھ کر آتی ہے۔ وہ خاموشی جو عالمی اداروں کی بے عملی سے جنم لیتی ہے۔ اور اب یہ خاموشی صرف انتخاب نہیں، بلکہ گناہ بن چکی ہے۔

مشرقی غزہ شہر کے شجاعیہ اور زیتون کے علاقے بھی شدید بمباری اور فضائی حملوں کی زد میں آئے جس سے کئی رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔گزشتہ جمعرات کے روزبھی اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی میں ڈرون، فضائی اور توپ خانے سے حملے کیے تھے، جن میں 45 فلسطینی مارے گئے تھے۔

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کے روز کہا کہ گزشتہ دو دنوں کے فضائی حملے ’صرف شروعات‘ ہیں۔ اس کے بعد مزید سنگین حملے ہوں گے، اور تم اس کی پوری قیمت چکاؤ گے۔

جورڈن نے اس نقشے کو اسرائیل کی توسیع پسندانہ منصوبے کا حصہ بتایا ہے۔ عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے اسے اکسانے کی کارروائی قرار دیا ہے ۔ انہوں نےخبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے قدم  انتہا پسندی کو بڑھاوا دے سکتے ہیں۔

غزہ کی عوام نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں داخل ہونے والے امدادی ٹرکوں کو لوٹنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ امداد کو بلیک مارکیٹ میں مہنگے داموں پر فروخت ہونے سے روکا جا سکے۔

اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ نے کہا کہ شمالی غزہ میں لوگ بس مرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ الگ تھلگ، افسردہ اور تنہا محسوس کر رہے ہیں۔ وہ ایک گھنٹے سے دوسرے گھنٹے تک زندہ رہتے ہیں، ہر لمحہ موت سے ڈرتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن اور وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اپنے اسرائیلی ہم منصبوں کو لکھے گئے خط میں خبردار کیا ہے کہ یہ تبدیلیاں کسی بھی قیمت پر ہونی چاہئیں۔ اس خط میں انسانی امداد میں اضافے اور ہتھیاروں کی فراہمی کی امریکی پالیسی کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔

مصری سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی وفود نے قاہرہ میں ملاقاتوں کا نیا دور شروع کیا، جس کا مقصد غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع کو ختم کرنا اور جنگ بندی کی تجویز پر اختلافات کو دور کرنا ہے۔