Bharat Express DD Free Dish

Gaza Crisis

یہ اشتہار اس سچائی کو نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کرتا ہے کہ آج کی دنیا میں ساکھ کی قیمت بہت زیادہ ہے، اور ایک غلط قدم یا ناسمجھی پر مبنی مہم، برسوں کی محنت پر پانی پھیر سکتی ہے۔

غزہ کے عوام کو اب ایک نئے بڑے مسئلے کا سامنا ہے۔ لانسیٹ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ میں ایسی بیماریاں پھیل رہی ہیں جن کا علاج اینٹی بائیوٹک سے بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی وجہ سے بیماریاں زیادہ دیرتک رہتی ہیں۔

پرینکا  گاندھی واڈرا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر لکھا:"الجزیرہ کے پانچ صحافیوں کا بے رحمانہ قتل فلسطینی سرزمین پر کیا گیا ایک اور ہولناک جرم ہے۔ جو لوگ سچ کے لیے کھڑے ہونے کی ہمت کرتے ہیں، ان کی بے پناہ جرأت اسرائیل کے تشدد اور نفرت سے کبھی نہیں ٹوٹے گا ۔

دریں اثنا نیتن یاہو نے اس منصوبے پر عالمی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم غزہ پر قبضہ کرنے نہیں جا رہے، ہم اسے حماس سے آزاد کروائیں گے۔‘‘

ہولوکاسٹ کے بعد جرمنی نے اسرائیل کے ساتھ خصوصی تعلقات استوار کیے اور دفاعی شعبے میں تعاون بھی اس تعلق کا اہم حصہ رہا ہے۔ ایسے میں یہ فیصلہ ایک بڑی پالیسی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دیگر یورپی ممالک نے بھی اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ برطانیہ نے گزشتہ سال ہتھیاروں کی کچھ برآمدات معطل کر دی تھیں، اور اسپین نے اکتوبر 2023 میں ہتھیاروں کی فروخت روک دی تھی۔ نیدرلینڈز نے ہتھیاروں سے متعلق کنٹرول سخت کر دیے ہیں، جبکہ فرانس اور بیلجیم میں قانونی چیلنجز جاری ہیں۔

اس سے قبل برطانیہ اور فرانس سمیت کئی دیگر مغربی ممالک نے حال ہی میں فلسطینیوں کو فضائی راستے سے انسانی امداد کی فراہمی کے لیے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ جین نول باروٹ نے اس ہفتے کے شروع میں کہا تھا کہ فرانس جمعہ سے غزہ کے لیے 40 ٹن امداد ہوائی جہاز سے گرائے گا۔

اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم 59,676 فلسطینی ہلاک اور 143,965 زخمی ہو چکے ہیں۔

انھوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تمام شراکت داروں سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں بلا روک ٹوک انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنائیں۔